حدیث نمبر: 13989
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، فَقَالَ: «أَلَا تَنْطَلِقُ إِلَى الْمَنْزِلِ وَتُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَشْرَبُ فِي قَدَحٍ شَرِبَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ لِي: «إِنَّكَ بِأَرْضٍ فَاشٍ بِهَا الرِّيَاءُ، وَإِنَّ مِنَ الرِّيَاءِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ السَّلَامَ فَيُهْدَى لَهُ فَيَقْبَلُهَا»
ترجمہ

ابوبردہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ آیا اور سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گیا، انہوں نے فرمایا: ”کیا تم گھر نہیں چلو گے، اس مسجد میں نماز پڑھو گے جس میں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی تھی، اور اس پیالے میں پیو گے جس میں رسول اللہ ﷺ نے پیا تھا؟“ چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”تم ایسی سرزمین میں ہو جہاں ریاکاری عام ہے، اور ریاکاری میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی (کسی کو) سلام کرے پھر اسے تحفہ دیا جائے تو وہ اسے قبول کر لے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13989
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 162، حدیث 392