حدیث نمبر: 13980
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ يُوسُفَ، وَغَيْرُهُ، مِنْ أَهْلِ ذِي الْمَرْوَةِ وَقُدَمَائِهِمْ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحُلَيْمَةِ فِي سَفَرِهِ إِلَى تَبُوكَ، قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: الْمَنْزِلُ يَا رَسُولَ اللهِ الظِّلُّ وَالْمَاءُ، وَكَانَ فِيهَا دَوْمٌ وَمَاءٌ، فَقَالَ: «إِنَّهَا أَرْضُ زَرْعٍ وَبَقَرٍ دَعُوهَا، فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ» ، يَعْنِي: نَاقَتَهُ، فَأَقْبَلَتْ حَتَّى نَزَلَتْ تَحْتَ الدَّوْمَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي الْمَسْجِدِ ذِي الْمَرْوَةِ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے سفرِ تبوک میں حلیمہ کے مقام سے گزرے تو صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہاں سایہ اور پانی ہے، یہیں پڑاؤ کر لیں، کیونکہ وہاں بیریوں کے درخت اور پانی موجود تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھیتی اور مویشیوں کی زمین ہے، اسے (یعنی اونٹنی کو) چھوڑ دو، یہ (اللہ کی طرف سے) حکم کی پابند ہے۔“ آپ کی مراد اپنی اونٹنی سے تھی۔ چنانچہ وہ آگے بڑھتی گئی یہاں تک کہ اسی بیری کے درخت کے نیچے بیٹھ گئی جو مسجدِ ذی المروہ میں تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13980
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 158، حدیث 383