المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زرارة بن أوفى، عن عبد الله بن سلام باب: زرارہ بن اوفیٰ کی سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 13982
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ عَوْذَ اللهَ الْقُرَشِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ قِبَلَهُ، فَكُنْتُ فِيمَنْ خَرَجَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: «أَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ، وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ جوق در جوق آپ کی طرف نکل پڑے، میں بھی نکلنے والوں میں شامل تھا۔ جب میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا تو پہچان لیا کہ یہ چہرہ جھوٹے شخص کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو میں نے آپ ﷺ سے سنی وہ یہ تھی: ”کھانا کھلاؤ، سلام کو عام کرو، اور رات کو جب لوگ سوئے ہوں تو نماز پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“