کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوقبیل کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، قَالَ: ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَعِيدٍ التُّجِيبِيُّ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةَ الْجُمُعَةِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات فوت ہو، وہ قبر کے فتنے سے محفوظ رہتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زَغْبَةَ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعٍ، مِنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ، وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ، وَمِنْ أَكْلِ السَّبُعِ، وَمِنَ الْحَرْقِ، وَمِنَ الْغَرَقِ، وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَىءٌ، وَمِنَ الْقَتْلِ فِرَارًا مِنَ الزَّحْفِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سات چیزوں سے پناہ مانگی: اچانک موت سے، سانپ کے ڈسنے سے، درندے کے کھا جانے سے، جل جانے سے، ڈوب جانے سے، اس بات سے کہ کوئی چیز اس پر گر پڑے، اور میدانِ جنگ سے بھاگ کر مارے جانے سے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيلَحِينِيُّ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ، وَقَدْ ذَكَرُوا فَتْحَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ، وَرُومِيَّةَ أَيُّهُمَا تُفْتَحُ قَبْلُ؟، فَدَعَا عَبْدُ اللهِ بِصُنْدُوقٍ فَفَتَحَ، فَقَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنْهُ، فَقُلْنَا: أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ قَبْلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «مَدِينَةُ هِرَقْلَ» . يُرِيدُ مَدِينَةَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک صندوق منگوایا اور اسے کھولا اور کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے جو کچھ آپ ﷺ سے سنتے وہ لکھ لیا کرتے تھے، تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، دونوں شہروں میں سے پہلے کون سا فتح ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہرقل کا شہر۔“ آپ ﷺ کی مراد قسطنطنیہ شہر سے تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا مَلَكَ الْعَتِيقَانِ عَتِيقُ الْعَرَبِ، وَعَتِيقُ الرُّومِ كَانَتْ عَلَى أَيْدِيهِمَا الْمَلَاحِمُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عرب کے عتیق اور روم کے عتیق دونوں آزاد کردہ حکمران اقتدار سنبھالیں گے تو ان کے ہاتھوں بڑی جنگیں ہوں گی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيِّ، قَالَ: ثنا عَبْدُوسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: ثنا مَنْصُورُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «شِعَارُ أُمَّتِي إِذَا حُمِلُوا عَلَى الصِّرَاطِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا نعرہ، جب انہیں پل صراط پر چلایا جائے گا، یہ ہوگا: تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حَيَّةَ، عَنِ ابنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ مَنْ يُحِبُّ التَّمْرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اس شخص سے محبت کرتا ہے جو کھجور سے محبت کرتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رِشْدِينَ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «سَتَكُونُ فِتْنَةٌ يُفَارِقُ الرَّجُلُ فِيهَا أَخَاهُ وَأَبَاهُ، تَطِيرُ الْفِتْنَةُ فِي قُلُوبِ رِّجَالٍ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يُعَيَّرُ الرَّجُلُ بِهَا، كَمَا تُعَيَّرُ الزَّانِيَةُ بِزِنَاهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب ایک فتنہ برپا ہوگا جس میں آدمی اپنے بھائی اور اپنے باپ سے جدا ہو جائے گا، یہ فتنہ لوگوں میں سے کچھ کے دلوں میں قیامت تک اڑتا رہے گا، یہاں تک کہ آدمی کو اس کی وجہ سے اسی طرح عار دلائی جائے گی جیسے زانیہ کو اس کے زنا کی وجہ سے عار دلائی جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَتَتْكُمُ الْقُرَيْعَاءُ» ، قُلْنَا: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «فِتْنَةٌ يَكُونُ فِيهَا مِثْلَ الْبَيْضَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس قُرَیعاء آئے گی۔“ ہم نے عرض کیا: یہ کیا ہے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ایسا فتنہ جس میں سب ایک انڈے کی طرح یکساں ہو جائیں گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْفِهْرِيُّ، قَالَ: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا، عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا، وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا، عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے دوست سے تھوڑی محبت رکھو، شاید وہ کسی دن تمہارا دشمن بن جائے، اور اپنے دشمن سے تھوڑی ناپسندیدگی رکھو، شاید وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: ثنا ضِمَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زُرْ غِبًّا، تَزْدَدْ حُبًّا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کبھی کبھار ملاقات کیا کرو، محبت میں اضافہ ہوگا۔“