کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: یزید بن اصم کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّامِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَبَاحِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ أُومَرْ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے مسجدوں کو اونچا اور آراستہ تعمیر کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمْ أُومَرْ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے مسجدوں کو اونچا اور آراستہ تعمیر کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ قَالَ: «لَمْ أُومَرْ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے، فرمایا: ”مجھے مسجدوں کو اونچا اور آراستہ تعمیر کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدَ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ أُومَرْ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ» وَلَمْ يَذْكُرْ لَيْثًا
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے مسجدوں کو اونچا اور آراستہ تعمیر کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ الْحَنَّاطِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ مَنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ فَإِنَّ اللهَ يَغْفِرُ لَهُ مَا سِوَى ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ: مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، وَلَمْ يَكُنْ سَاحِرًا يَتْبَعُ السَّحَرَةَ، وَلَمْ يَحْقِدْ عَلَى أَخِيهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین باتیں ہیں، جس میں ان میں سے ایک بھی نہ ہو، اللہ اس کے علاوہ جو چاہے معاف کر دیتا ہے: جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، جادوگر بن کر جادوگروں کی پیروی نہ کرتا ہو، اور اپنے بھائی سے بغض نہ رکھتا ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَاءَ اللهُ وَشِئْتَ. قَالَ: «جَعَلْتَ لِلَّهِ نِدًّا بَلْ مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے کہا: جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا دیا! بلکہ یہ کہو: جو اللہ اکیلا چاہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا شَاءَ اللهُ، وَشِئْتَ قَالَ: «جَعَلْتَنِي عَدْلًا قُلْ مَا شَاءَ اللهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے مجھے اللہ کے برابر ٹھہرا دیا! یہ کہو: جو اللہ چاہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، أَنَّ الضَّبَّ ذُكِرَ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ بَعْضُ جُلَسَائِهِ: أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُحِلَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِئْسَمَا تَقُولُونُ إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا إِنَّمَا جَاءَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ تَزُورُ أُخْتَهَا مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءُوا مَعَهُمْ بِطَعَامٍ فِيهِ لَحْمُ ضَبٍّ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَمَا أَغْسَقَ - يَعْنِي أَظْلَمَ - فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَأَمْسَكَ عَنْهُ فَأَمْسَكَتْ عَنْهُ مَيْمُونَةُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَكَلَهُ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا نَهَاهُمْ عَنْهُ، وَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِأَرْضِنَا، وَنَحْنُ نَعَافُهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ضب (سانڈے) کا ذکر ہوا تو ان کے بعض ساتھیوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تھا، مگر آپ ﷺ نے نہ اسے حلال قرار دیا اور نہ حرام۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے بری بات کہی، رسول اللہ ﷺ تو حلال و حرام بتانے کے لیے ہی مبعوث کیے گئے تھے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ ام حفید بنت الحارث اپنی بہن سیدہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا، جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ تھیں، سے ملنے آئیں، اور وہ لوگ اپنے ساتھ کھانا لائے جس میں سانڈے کا گوشت بھی تھا۔ رسول اللہ ﷺ رات گہری ہونے کے بعد تشریف لائے - یعنی جب اندھیرا چھا چکا تھا - تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! یہ سانڈے کا گوشت ہے۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس سے روک لیا، اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس سے ہاتھ روک لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اور جو لوگ وہاں موجود تھے انہوں نے اسے کھایا، اور اگر یہ حرام ہوتا تو آپ ﷺ انہیں اس سے منع فرما دیتے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ہماری زمین کا کھانا نہیں ہے، اور ہم اسے ناپسند کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: دَعَانَا رَجُلٌ وَأَتَانَا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَكْثَرَ جُلَسَاؤُهُ فِي ذَلِكَ الْقَوْلَ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا أُحِلُّهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ» ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِئْسَمَا قُلْتُمْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا بُعِثَ مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَمَعَهُ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَامْرَأَةٌ وَمَيْمُونَةُ، فَأُتِيَ بِخِوَانٍ عَلَيْهِ خُبْزٌ وَلَحْمُ ضَبٍّ فَأَمْسَكَ يَدَهُ وَقَالَ: «هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ، وَلَكِنْ كُلُوا» فَأَكَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: لَا آكُلُ طَعَامًا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ تَأْكُلْ مَيْمُونَةُ
ترجمہ
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک شخص نے ہمیں دعوت دی اور ہمارے پاس تیرہ سانڈے لے کر آیا۔ جب صبح ہوئی تو میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور انہیں یہ بات بتائی، تو ان کے پاس بیٹھے لوگوں نے اس بارے میں بہت گفتگو کی یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”میں نہ اسے حلال کہتا ہوں اور نہ حرام۔“ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے بری بات کہی، رسول اللہ ﷺ تو حلال و حرام بتانے کے لیے ہی مبعوث کیے گئے تھے۔ بیشک رسول اللہ ﷺ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، ایک عورت اور میمونہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں، تو ایک دستر خوان لایا گیا جس پر روٹی اور سانڈے کا گوشت تھا، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: ”یہ ایسا گوشت ہے جو میں نہیں کھاتا، لیکن تم کھاؤ۔“ چنانچہ خالد بن ولید، فضل بن عباس اور اس عورت نے کھایا، جبکہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں وہ کھانا نہیں کھاؤں گی جو نبی کریم ﷺ نے نہیں کھایا، تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے نہیں کھایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , أَحُجُّ عَنْ أَبِي؟، فَقَالَ: «نَعَمْ إِنْ لَمْ تَزِدْهُ خَيْرًا لَمْ تَزِدْهُ شَرًّا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اگر یہ اسے نفع نہ بھی دے تو نقصان تو نہیں دے گا۔“