المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن الأصم، عن ابن عباس باب: یزید بن اصم کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، أَنَّ الضَّبَّ ذُكِرَ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ بَعْضُ جُلَسَائِهِ: أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُحِلَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِئْسَمَا تَقُولُونُ إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا إِنَّمَا جَاءَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ تَزُورُ أُخْتَهَا مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءُوا مَعَهُمْ بِطَعَامٍ فِيهِ لَحْمُ ضَبٍّ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَمَا أَغْسَقَ - يَعْنِي أَظْلَمَ - فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَأَمْسَكَ عَنْهُ فَأَمْسَكَتْ عَنْهُ مَيْمُونَةُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَكَلَهُ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا نَهَاهُمْ عَنْهُ، وَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِأَرْضِنَا، وَنَحْنُ نَعَافُهُ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ضب (سانڈے) کا ذکر ہوا تو ان کے بعض ساتھیوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تھا، مگر آپ ﷺ نے نہ اسے حلال قرار دیا اور نہ حرام۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے بری بات کہی، رسول اللہ ﷺ تو حلال و حرام بتانے کے لیے ہی مبعوث کیے گئے تھے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ ام حفید بنت الحارث اپنی بہن سیدہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا، جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ تھیں، سے ملنے آئیں، اور وہ لوگ اپنے ساتھ کھانا لائے جس میں سانڈے کا گوشت بھی تھا۔ رسول اللہ ﷺ رات گہری ہونے کے بعد تشریف لائے - یعنی جب اندھیرا چھا چکا تھا - تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! یہ سانڈے کا گوشت ہے۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس سے روک لیا، اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس سے ہاتھ روک لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اور جو لوگ وہاں موجود تھے انہوں نے اسے کھایا، اور اگر یہ حرام ہوتا تو آپ ﷺ انہیں اس سے منع فرما دیتے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ہماری زمین کا کھانا نہیں ہے، اور ہم اسے ناپسند کرتے ہیں۔“