کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: حنش صنعانی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ حِمْيَرَ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: إِنِّي أُحِبُّ النِّسَاءَ , وَأُحِبُّ أَنْ آتِيَ امْرَأَتِي مُجَبِّيَةً فَكَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتِهَا مُقْبِلَةً، وَمُدْبِرَةً إِذَا كَانَ ذَلِكَ فِي الْفَرْجِ»
ترجمہ
…اور میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیوی کے پاس آگے کی طرف جھکی ہوئی حالت میں (پیچھے سے) آؤں، تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ“ [سورۃ البقرۃ: 223]، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پاس آگے سے آؤ یا پیچھے سے، بشرطیکہ وہ شرمگاہ ہی میں ہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، وَعَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " وُلِدَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِإِثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الِإِثْنَيْنِ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ، وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الِإِثْنَيْنِ، وَفَتَحَ بَدْرًا يَوْمَ الِإِثْنَيْنِ، وَنَزَلَتْ سُورَةُ الْمَائِدَةِ يَوْمَ الِإِثْنَيْنِ، {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} [المائدة: ٣] وَرَفَعَ الرُّكْنَ يَوْمَ الِإِثْنَيْنِ، وَتُوُفِّيَ فِي يَوْمِ الِإِثْنَيْنِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”تمہارے نبی ﷺ پیر کے دن پیدا ہوئے، اور پیر کے دن ہی مکہ سے نکلے، اور پیر کے دن ہی مدینہ میں داخل ہوئے، اور پیر کے دن ہی بدر (کی فتح) نصیب ہوئی، اور پیر کے دن ہی سورۃ المائدہ نازل ہوئی: ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا“ [سورۃ المائدۃ: 3]، اور پیر کے دن ہی رکن (حجرِ اسود) اٹھایا، اور پیر کے دن ہی وفات پائی۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْإِسْلَامُ ثَلَاثُمِائَةِ شَرِيعَةٍ، وَثَلَاثَةَ عَشَرَ شَرِيعَةً لَيْسَ فِيهَا شَرِيعَةٌ يَلْقَى اللهَ بِهَا صَاحِبُهَا إِلَّا، وَهُوَ يَدْخُلُ بِهَا الْجَنَّةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام تین سو تیرہ شریعتوں پر مشتمل ہے، ان میں سے کوئی بھی شریعت ایسی نہیں جس پر عمل کرنے والا اللہ سے ملے مگر یہ کہ وہ اس کے ذریعے جنت میں داخل ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هُبَيْرَةَ، عَنْ حَنَشٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي أَبْوَالِ الْإِبِلِ، وَأَلْبَانِهَا شِفَاءٌ لِلذَّرَبَةِ بُطُونُهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹوں کے پیشاب اور دودھ میں پیٹ کی خرابی والوں کے لیے شفا ہے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَخْرُجُ فَيُهَرِيقُ الْمَاءَ فَيَتَمَسَّحُ بِالتُّرَابِ فَأَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ , فَيَقُولُ: «لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے جاتے اور پیشاب کرتے، پھر مٹی سے صفائی کرتے، تو میں کہتا: یا رسول اللہ! پانی تو آپ کے قریب ہی ہے۔ تو آپ ﷺ فرماتے: ”شاید میں اس تک نہ پہنچ سکوں۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ: كَانَ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي وَأَنَا رَدِيفٌ خَلْفَهُ: «يَا غُلَامُ إِنِّي مُعَلِّمُكُ كَلِمَاتٍ فَاحْفَظْهُنَّ، احْفَظِ اللهَ يَحْفَظْكَ احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللهُ لَكَ جَفَّتِ الْأَقْلَامُ، وَطُوِيَتِ الصُّحُفُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے - جبکہ میں آپ ﷺ کے پیچھے سوار تھا - فرمایا: ”اے لڑکے! میں تمہیں کچھ باتیں سکھاتا ہوں، انہیں یاد رکھو: اللہ کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ اللہ کی حفاظت کرو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ اور جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو، اور جب مدد طلب کرو تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو، اور جان لو کہ اگر پوری امت بھی جمع ہو جائے کہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچائے، تو وہ تمہیں اسی چیز کے سوا فائدہ نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔ قلمیں خشک ہو چکیں اور صحیفے لپیٹ دیے گئے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا أَبُو صَدَقَةَ الْقَرَاطِيسِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا“ - پھر راوی نے لیث بن سعد کی روایت جیسی حدیث بیان کی۔