❮
❯
حدیث نمبر: 12927
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ حِمْيَرَ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: إِنِّي أُحِبُّ النِّسَاءَ , وَأُحِبُّ أَنْ آتِيَ امْرَأَتِي مُجَبِّيَةً فَكَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتِهَا مُقْبِلَةً، وَمُدْبِرَةً إِذَا كَانَ ذَلِكَ فِي الْفَرْجِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حمیر (قبیلے) کے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے کچھ باتیں پوچھیں۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: میں عورتوں سے محبت کرتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ اپنی بیوی کے پاس آگے کی طرف جھکی ہوئی حالت میں (پیچھے سے) آؤں، تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ“ [سورۃ البقرۃ: 223]، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پاس آگے سے آؤ یا پیچھے سے، بشرطیکہ وہ شرمگاہ ہی میں ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12927
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 236، حدیث 12983