کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عبداللہ بن حارث کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَاصِمٌ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ ذِي رَدْعٍ فَلَمَّا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ: الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ: «كَأَنَّكُمْ أَنْكَرْتُمْ هَذَا؟ قَدْ فَعَلَ هَذَا خَيْرٌ مِنِّي، وَإِنَّهَا عَزْمَةٌ»
ترجمہ
عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں ایک کیچڑ آلود دن خطبہ دیا، جب مؤذن ”حی علی الصلاۃ“ تک پہنچا تو انہوں نے اسے حکم دیا کہ وہ پکارے: نماز اپنے گھروں میں پڑھ لو۔ اس پر کچھ لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”گویا تم نے اسے ناپسند کیا؟ یہ کام مجھ سے بہتر ہستی نے کیا ہے، اور یہ ایک پختہ حکم ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12856
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 208، حدیث 12912
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَمَرَ مُنَادِيَهُ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ فَقَالَ: " إِذَا بَلَغْتَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَقُلْ: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، فَقِيلَ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: فَعَلَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي "
ترجمہ
عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک بارش والے دن اپنے منادی کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: ”جب تم ’حی علی الفلاح‘ تک پہنچو تو کہو: خبردار! گھروں میں نماز پڑھ لو۔“ ان سے پوچھا گیا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”یہ کام مجھ سے بہتر ہستی نے کیا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12857
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 209، حدیث 12913
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: «إِنَّمَا سُمِّيَ الْخَضِرَ لِأَنَّهُ قَعَدَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَاهْتَزَّتْ خَضْرَاءَ» قَالَ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ: وَحَدَّثَنِي سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ أَنَّ قَتَادَةَ كَانَ يَرْفَعُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو منبر پر یہ فرماتے سنا: ”خضر کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ وہ ایک سفید زمین پر بیٹھے تو وہ ہری بھری ہو کر لہلہا اٹھی۔“
سعید بن بشیر کہتے ہیں: مجھے سوید ابوحاتم نے بتایا کہ قتادہ اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ تک مرفوعاً بیان کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12858
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 209، حدیث 12914