المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن الحارث، عن ابن عباس باب: عبداللہ بن حارث کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12856
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَاصِمٌ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ ذِي رَدْعٍ فَلَمَّا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ: الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ: «كَأَنَّكُمْ أَنْكَرْتُمْ هَذَا؟ قَدْ فَعَلَ هَذَا خَيْرٌ مِنِّي، وَإِنَّهَا عَزْمَةٌ»ترجمہ
عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں ایک کیچڑ آلود دن خطبہ دیا، جب مؤذن ”حی علی الصلاۃ“ تک پہنچا تو انہوں نے اسے حکم دیا کہ وہ پکارے: نماز اپنے گھروں میں پڑھ لو۔ اس پر کچھ لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”گویا تم نے اسے ناپسند کیا؟ یہ کام مجھ سے بہتر ہستی نے کیا ہے، اور یہ ایک پختہ حکم ہے۔“