کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوعالیہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ , فَقَالَ: «رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا»
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَدَاةَ الْعَقَبَةِ، وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ: «هَاتِ الْتَقِطْ» فَالْتَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ مِنْ حَصَى الْخَذْفِ فَلَمَّا وَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ قَالَ: «نَعَمْ بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ» ثَلَاثَ مِرَارٍ «وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ» حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَدَاةَ الْعَقَبَةِ، وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ: «هَاتِ الْتَقِطْ» فَالْتَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ مِنْ حَصَى الْخَذْفِ فَلَمَّا وَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ قَالَ: «نَعَمْ بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ» ثَلَاثَ مِرَارٍ «وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ» حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو فرمایا: ”بنی اسماعیل! تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارے باپ (اسماعیل علیہ السلام) تیر انداز تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عقبہ کی صبح نبی کریم ﷺ نے، جبکہ آپ ﷺ اپنی سواری پر تھے، فرمایا: ”لاؤ، کنکریاں چن لو۔“ تو میں نے آپ ﷺ کے لیے خذف (چھوٹی) کنکریاں چن لیں، جب انہیں آپ ﷺ کے ہاتھ میں رکھا تو فرمایا: ”ہاں، ان جیسی (کنکریوں سے رمی کرو)“، تین بار فرمایا، ”اور دین میں غلو (حد سے تجاوز) سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو صرف دین میں غلو نے ہی ہلاک کیا۔“
اسی جیسی حدیث ایک تیسری سند سے بھی نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عقبہ کی صبح نبی کریم ﷺ نے، جبکہ آپ ﷺ اپنی سواری پر تھے، فرمایا: ”لاؤ، کنکریاں چن لو۔“ تو میں نے آپ ﷺ کے لیے خذف (چھوٹی) کنکریاں چن لیں، جب انہیں آپ ﷺ کے ہاتھ میں رکھا تو فرمایا: ”ہاں، ان جیسی (کنکریوں سے رمی کرو)“، تین بار فرمایا، ”اور دین میں غلو (حد سے تجاوز) سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو صرف دین میں غلو نے ہی ہلاک کیا۔“
اسی جیسی حدیث ایک تیسری سند سے بھی نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى غَطَّ، وَنَفَخَ وَهُوَ سَاجِدٌ أَوْ جَالِسٌ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّكَ قَدْ نِمْتَ قَالَ: «إِنَّمَا يَجِبُ الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا فَإِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ»
ترجمہ
ابوالعالیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے اور سانس کی آواز آنے لگی، جبکہ آپ ﷺ سجدے میں تھے یا بیٹھے تھے، پھر اٹھے اور نماز پڑھی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو سو گئے تھے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو تو صرف اس پر واجب ہوتا ہے جو لیٹ کر سوئے، کیونکہ جب وہ لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: رَجُلٌ آدَمُ طُوَالٌ جَعْدٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ، وَالْبَيَاضِ سَبِطُ الرَّأْسِ، وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ، وَرَأَيْتُ الدَّجَّالَ فِي آيَاتٍ أَرَانِيهِنَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ "
ترجمہ
ابوالعالیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے تمہارے نبی ﷺ کے چچازاد بھائی، یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”معراج کی رات میں نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا: گندمی رنگ، لمبا قد، گھنگریالے بال، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے تھے۔ اور میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا: میانہ قد، سرخی و سفیدی مائل رنگ، سیدھے بال والے۔ اور میں نے مالک، جہنم کے داروغہ، کو دیکھا۔ اور میں نے دجال کو کچھ نشانیوں میں دیکھا جو اللہ عزوجل نے مجھے دکھائیں۔“
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ , لَا إِلَهُ إِلَّا اللهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ پریشانی کے وقت یہ دعا فرماتے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ عظیم، بردبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ عرش کریم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ آسمانوں کا رب اور عرش عظیم کا رب ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ، وَأَبُو زُرْعَةُ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ، وَسَقَمُ السَّقِيمِ لَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کمزور کی کمزوری اور بیمار کی بیماری نہ ہوتی تو میں عشاء کی نماز مؤخر کر دیتا۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کہے: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَبْحَابِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُوَيْدٍ الْمَغُولِيُّ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهِ الشَّبْعَانُ، وَيُحْبَسُ عَنْهُ الْجَائِعُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بدترین کھانا ولیمے کا وہ کھانا ہے جس میں سیر لوگوں کو بلایا جائے اور بھوکوں کو روک دیا جائے۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ثنا عُلَيْلَةُ بْنُ بَدْرٍ، ثنا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ يُعَلِّمُنَا الرُّكُوعَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُعَلِّمُهُمْ , ثُمَّ يَسْتَوِي لَنَا رَاكِعًا حَتَّى لَوْ قُطِرَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهِ قَطْرَةٌ مِنْ مَاءٍ مَا تَقَدَّمَتْ، وَلَا تَأَخَّرَتْ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہمیں رکوع اسی طرح سکھاتے تھے جیسے رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کو سکھاتے تھے، پھر ہمارے لیے رکوع میں اس طرح ٹھہر جاتے کہ اگر ان کے دونوں کندھوں کے درمیان پانی کا ایک قطرہ ٹپکایا جاتا تو نہ آگے گرتا اور نہ پیچھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَى عَلَى وَادِي ابْنِ الْأَزْرَقِ , فَقَالَ: «مَا هَذَا الْوَادِي؟» قَالُوا: وَادِي ابْنِ الْأَزْرَقِ قَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَبِطًا، وَلَهُ حُوَارٌ إِلَى رَبِّهِ بِالتَّلْبِيَةِ» ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةٍ , فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الثَّنِيَّةُ؟» قِيلَ: ثَنِيَّةُ كَذَا وَكَذَا قَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ خِطَامُهَا لِيفٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، وَهُوَ يُلَبِّي» قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: " قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ: وَإِنَّمَا هُوَ الْأَزْرَقُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وادئ ابن ازرق پر پہنچے تو فرمایا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے کہا: وادئ ابن ازرق۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ (اس وادی میں) اتر رہے ہیں اور اپنے رب کے حضور بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔“ پھر آپ ﷺ ایک گھاٹی پر پہنچے تو فرمایا: ”یہ کون سی گھاٹی ہے؟“ عرض کیا گیا: فلاں فلاں گھاٹی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا میں یونس بن متی علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک سرخ، گھونگھریالے بالوں والی اونٹنی پر سوار ہیں، جس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے، اور وہ اون کا جبہ پہنے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حماد بن سلمہ نے (اس وادی کا نام) ’ابن الازرق‘ بیان کیا، حالانکہ صحیح نام صرف ’الازرق‘ ہے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حماد بن سلمہ نے (اس وادی کا نام) ’ابن الازرق‘ بیان کیا، حالانکہ صحیح نام صرف ’الازرق‘ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ إِنْسَانًا لَعَنَ الرِّيحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ، وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ، وَقَعَتْ عَلَيْهِ اللَّعْنَةُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ہوا کو بددعا دی (کوسا) تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے بددعا نہ دو، کیونکہ وہ (اللہ کے) حکم کی پابند ہے، اور جو کسی ایسی چیز کو بددعا دے جو اس کی مستحق نہ ہو، وہ بددعا خود اسی پر لوٹ آتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: {وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ} [الإسراء: ٢] قَالَ: «جَعَلَ مُوسَى هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ» وَفِي قَوْلِهِ: {فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ} [السجدة: ٢٣] قَالَ: «مِنْ لِقَاءِ مُوسَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ”اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا“ [سورۃ الاسراء: 2] کے بارے میں فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا گیا۔“ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ”تو آپ اس کی ملاقات کے بارے میں کسی شک میں نہ رہیں“ [سورۃ السجدۃ: 23] کے بارے میں فرمایا: ”یعنی موسیٰ علیہ السلام کے اپنے رب عزوجل سے ملاقات کے بارے میں۔“