المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو العالية، عن ابن عباس باب: ابوعالیہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ , فَقَالَ: «رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا»
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَدَاةَ الْعَقَبَةِ، وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ: «هَاتِ الْتَقِطْ» فَالْتَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ مِنْ حَصَى الْخَذْفِ فَلَمَّا وَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ قَالَ: «نَعَمْ بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ» ثَلَاثَ مِرَارٍ «وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ» حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو فرمایا: ”بنی اسماعیل! تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارے باپ (اسماعیل علیہ السلام) تیر انداز تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عقبہ کی صبح نبی کریم ﷺ نے، جبکہ آپ ﷺ اپنی سواری پر تھے، فرمایا: ”لاؤ، کنکریاں چن لو۔“ تو میں نے آپ ﷺ کے لیے خذف (چھوٹی) کنکریاں چن لیں، جب انہیں آپ ﷺ کے ہاتھ میں رکھا تو فرمایا: ”ہاں، ان جیسی (کنکریوں سے رمی کرو)“، تین بار فرمایا، ”اور دین میں غلو (حد سے تجاوز) سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو صرف دین میں غلو نے ہی ہلاک کیا۔“
اسی جیسی حدیث ایک تیسری سند سے بھی نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔