حدیث نمبر: 12701
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَى عَلَى وَادِي ابْنِ الْأَزْرَقِ , فَقَالَ: «مَا هَذَا الْوَادِي؟» قَالُوا: وَادِي ابْنِ الْأَزْرَقِ قَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَبِطًا، وَلَهُ حُوَارٌ إِلَى رَبِّهِ بِالتَّلْبِيَةِ» ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةٍ , فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الثَّنِيَّةُ؟» قِيلَ: ثَنِيَّةُ كَذَا وَكَذَا قَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ خِطَامُهَا لِيفٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، وَهُوَ يُلَبِّي» قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: " قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ: وَإِنَّمَا هُوَ الْأَزْرَقُ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وادئ ابن ازرق پر پہنچے تو فرمایا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے کہا: وادئ ابن ازرق۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ (اس وادی میں) اتر رہے ہیں اور اپنے رب کے حضور بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔“ پھر آپ ﷺ ایک گھاٹی پر پہنچے تو فرمایا: ”یہ کون سی گھاٹی ہے؟“ عرض کیا گیا: فلاں فلاں گھاٹی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا میں یونس بن متی علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک سرخ، گھونگھریالے بالوں والی اونٹنی پر سوار ہیں، جس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے، اور وہ اون کا جبہ پہنے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حماد بن سلمہ نے (اس وادی کا نام) ’ابن الازرق‘ بیان کیا، حالانکہ صحیح نام صرف ’الازرق‘ ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12701
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 159، حدیث 12756