حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عِيسَى الْعَبْسِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُهُ قَالَ: " خَلَقَ اللهُ جَنَّةَ عَدْنٍ بِيَدِهِ، وَدَلَّى فِيهَا ثِمَارَهَا، وَشَقَّ فِيهَا أَنْهَارَهَا، ثُمَّ نَظَرَ فِِيهَا، فَقَالَ: قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ قَالَ: وَعِزَّتِي لَا يُجَاوِرُنِي فِيكِ بِخَيْلٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً روایت کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اس کے پھل لٹکا دیے، اس میں نہریں جاری کیں، پھر اس کی طرف نظر فرمائی اور فرمایا: مومن کامیاب ہو گئے۔ اور فرمایا: میری عزت کی قسم! تجھ میں میرے پاس کوئی بخیل نہیں رہ سکتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَادَةُ بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ، ثنا مُدْرِكُ بْنُ سُلَيْمَانَ الطَّائِيُّ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ نَفْيُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَكَمَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الطَّائِفِ، بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِهِ فإِذَا هُوَ إِنْسَانٌ يَطَّلِعُ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَزَغَ، الْوَزَغَ» فَنَظَرَ فَإِذَا هُوَ الْحَكَمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْرُجْ لَا تُسَاكِنِّي بِالْمَدِينَةِ مَا بَقِيتُ» فَنَفَاهُ إِلَى الطَّائِفِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ اپنے حجرے میں تھے کہ اچانک ایک آدمی آپ ﷺ کو جھانک کر دیکھنے لگا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ چھپکلی ہے، یہ چھپکلی ہے۔“ پھر دیکھا تو وہ حکم (بن ابی العاص) تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نکل جاؤ، جب تک میں زندہ ہوں تم مدینہ میں میرے ساتھ نہیں رہ سکتے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے طائف کی طرف جلاوطن کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّهُ لَعَنَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ، وَالسُّرُجَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی (کثرت سے جانے والی) عورتوں پر، اور ان پر مسجدیں اور چراغ بنانے والوں پر لعنت فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا أَبْقَتْ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کے بعد باقی رہے، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور پہلے انہیں دو جن کا تم ذمہ اٹھاتے ہو۔“