کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوجویریہ جرمی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ الْبَاذَقِ، فَقَالَ: «سَبَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَاذَقُ مَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ»
ترجمہ
ابو جویریہ جرمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے باذق (انگور کے شیرے سے بنے مشروب) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”محمد ﷺ باذق سے پہلے (تشریف لا چکے تھے)، جو چیز بھی نشہ دے وہ حرام ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَدْرِي فِيمَ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ؟ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: ١٠١] ، " كَانَ أُنَاسٌ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِهْزَاءً يَقُولُ الرَّجُلُ: مَنْ أَبِي؟ وَيَقُولُ: ضَلَّتْ نَاقَتِي أَيْنَ نَاقَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللهُ هَذِهِ الْآيَةَ "
ترجمہ
ابو جویریہ جرمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں“ [المائدة: 101]؟ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے مذاق کے طور پر سوالات کیا کرتے تھے، کوئی آدمی کہتا: میرا باپ کون ہے؟ اور کوئی کہتا: میری اونٹنی گم ہو گئی ہے، وہ کہاں ہے؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔