حدیث نمبر: 12612
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَتِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْنَهُمْ شَرٌّ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَوْمًا جُلُوسٌ ذَكَرُوا مَا بَيْنَهُمْ حَتَّى غَضِبُوا، فَقَامَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ بِالسِّلَاحِ» فَنَزَلَتْ: {وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ} [آل عمران: ١٠١] الْآيَةُ كُلُّهَا، وَالْآيَتَانِ بَعْدَهَا إِلَى {وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ} [آل عمران: ١٠٣]
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قبیلہ اوس اور خزرج کے درمیان جاہلیت میں دشمنی تھی، ایک دن وہ بیٹھے ہوئے آپس کی پرانی باتیں یاد کرنے لگے یہاں تک کہ غصے میں آ گئے، اور کچھ لوگ ایک دوسرے کی طرف اسلحہ لے کر کھڑے ہو گئے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور تم کیسے کفر کرتے ہو حالانکہ تم پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول موجود ہے“ [آل عمران: 101] پوری آیت، اور اس کے بعد کی دو آیتیں ”اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی“ [آل عمران: 103] تک۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12612
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 126، حدیث 12666