المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو نصر الأسدي، عن ابن عباس باب: ابونصر اسدی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12613
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ} [آل عمران: ١٠١] قَالَ: «كَانَ الْأَوْسُ يَتَحَدَّثُونَ إِذْ ذَكَرُوا أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ , فَغَضِبُوا حَتَّى كَانَ بَيْنَهُمْ حَرْبٌ، فَأَخَذُوا السِّلَاحَ , وَمَشَى بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ» ، فَنَزَلَتْ: {وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ، وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللهِ} [آل عمران: ١٠١] إِلَى قَوْلِهِ: {فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا} [آل عمران: ١٠٣]ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور تم کیسے کفر کرتے ہو حالانکہ تم پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول موجود ہے“ [آل عمران: 101] کے بارے میں فرماتے ہیں: قبیلہ اوس آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ انہوں نے جاہلیت کی باتیں یاد کیں، تو غصے میں آ گئے یہاں تک کہ ان کے درمیان جنگ چھڑنے لگی، انہوں نے اسلحہ اٹھا لیا اور ایک دوسرے کی طرف چل پڑے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور تم کیسے کفر کرتے ہو…“ [آل عمران: 101] سے لے کر ”تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا“ [آل عمران: 103] تک۔