حدیث نمبر: 12611
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا الْأَغَرُّ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ الْأَسَدِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تَرَدَّدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آيَةٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: «أَشَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَكُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ: فَرَأَى الْقَوْمُ أَنَّهُ إِنَّمَا فَقَدَهُ لِيَفْتَحَ عَلَيْهِ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز میں کسی آیت میں ادھر ادھر ہو گئے (رک گئے)، جب نماز مکمل کی تو لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا: ”کیا ابی بن کعب نے تمہارے ساتھ نماز پڑھی؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو لوگوں کی رائے یہ تھی کہ آپ ﷺ نے صرف اس لیے ان کے بارے میں پوچھا تاکہ وہ آپ کو (آیت) یاد دلا دیتے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12611
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 126، حدیث 12665