کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عوسجہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ عَوْسَجَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ أَحَدًا يَرِثُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْتَغُوا» فَلَمْ يَجِدُوا أَحَدًا يَرِثُهُ، فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى مَوْلًى لَهُ أَعْتَقَهُ الْمَيِّتُ هُوَ الَّذِي لَهُ الْوَلَاءُ هُوَ الَّذِي أَعْتَقَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص فوت ہوا اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تلاش کرو۔“ لوگوں کو اس کا کوئی وارث نہ ملا، تو نبی کریم ﷺ نے اس کی میراث اس کے اس آزاد کردہ غلام کو دے دی جسے میت نے آزاد کیا تھا، کیونکہ ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا ہو۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12157
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 426، حدیث 12209
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَتْرُكْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا لَهُ فَأَعْتَقَهُ وَأَعْطَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص فوت ہوا اور اس نے اپنے ایک غلام کے سوا کوئی وارث نہیں چھوڑا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے اسے آزاد کر دیا اور اس کی میراث اسے عطا فرما دی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12158
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 427، حدیث 12210
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ وَارِثٌ يَرِثُهُ وَلَهُ مَوْلًى، الْمُتَوَفَّى أَعْتَقَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطُوهُ مَالَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص فوت ہوا اور اس کا کوئی وارث نہ ملا، جبکہ اس کا ایک آزاد کردہ غلام تھا جسے میت نے آزاد کیا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے اس کا مال دے دو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12159
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 427، حدیث 12211
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «رَفْعُ النَّاسِ الصَّوْتَ بِالذِّكْرِ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ» ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «كُنْتُ أَعْلَمُ بِهِ إِذَا سَمِعْتُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: لوگوں کا فرض نماز سے فارغ ہونے کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا (رائج تھا)۔ ان سے پوچھا گیا: کیا نبی کریم ﷺ ایسا کرتے تھے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”مجھے اس کا علم اسی وقت ہوتا تھا جب میں اسے سنتا تھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12160
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 427، حدیث 12212
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا يَمْنَعُ حَبَشَ بَنِي الْمُغِيرَةِ أَنْ يَأْتُوكَ إِلَّا أَنَّهُمْ يَخْشَوْنَ أَنْ تَرُدَّهُمْ قَالَ: " لَا خَيْرَ فِي الْحَبَشِ، إِذَا جَاعُوا سَرَقُوا، وَإِنْ شَبِعُوا زَنَوْا، وَإِنَّ فِيهِمْ لخُلَّتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وبأسٌ عِنْدَ الْبَأْسِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! بنو مغیرہ کے حبشی غلاموں کو آپ کے پاس آنے سے کیا چیز روکتی ہے سوائے اس کے کہ وہ ڈرتے ہیں کہ آپ انہیں واپس لوٹا دیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حبشیوں میں کوئی خیر نہیں، جب وہ بھوکے ہوتے ہیں تو چوری کرتے ہیں، اور جب سیر ہوتے ہیں تو بدکاری کرتے ہیں، البتہ ان میں دو اچھی خصلتیں ہیں: کھانا کھلانا، اور لڑائی کے وقت بہادری دکھانا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12161
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 428، حدیث 12213