حدیث نمبر: 12161
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا يَمْنَعُ حَبَشَ بَنِي الْمُغِيرَةِ أَنْ يَأْتُوكَ إِلَّا أَنَّهُمْ يَخْشَوْنَ أَنْ تَرُدَّهُمْ قَالَ: " لَا خَيْرَ فِي الْحَبَشِ، إِذَا جَاعُوا سَرَقُوا، وَإِنْ شَبِعُوا زَنَوْا، وَإِنَّ فِيهِمْ لخُلَّتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وبأسٌ عِنْدَ الْبَأْسِ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! بنو مغیرہ کے حبشی غلاموں کو آپ کے پاس آنے سے کیا چیز روکتی ہے سوائے اس کے کہ وہ ڈرتے ہیں کہ آپ انہیں واپس لوٹا دیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حبشیوں میں کوئی خیر نہیں، جب وہ بھوکے ہوتے ہیں تو چوری کرتے ہیں، اور جب سیر ہوتے ہیں تو بدکاری کرتے ہیں، البتہ ان میں دو اچھی خصلتیں ہیں: کھانا کھلانا، اور لڑائی کے وقت بہادری دکھانا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12161
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 428، حدیث 12213