حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبِي ح، وحَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْمِصْرِيُّ، وعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعُتْبِيُّ الْمِصْرِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللهِ مَرَّةً أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: «أَيْنَ الْقَائِلُ أَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللهِ؟» قَالَ: أَنَا ذَا، قَالَ: «أَتْمَمْتَ الْوُضُوءَ، وَصَلَّيْتَ مَعَنَا الْعِشَاءَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنَّكَ مِنْ خَطِيئَتِكَ كَمَا وَلَدَتْكَ أُمُّكَ، فَلَا تَعُدْ» ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ} [هود: ١١٤]
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”…ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ پر اللہ کی حد قائم کر دیجیے، ایک یا دو بار (یہی کہا)، تو آپ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر نماز کھڑی ہو گئی، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”وہ کہنے والا کہاں ہے جو کہہ رہا تھا کہ مجھ پر اللہ کی حد قائم کریں؟“ اس نے کہا: میں ہوں۔ فرمایا: ”کیا تو نے مکمل وضو کیا اور ہمارے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”تو بیشک تیرا گناہ اس طرح معاف کر دیا گیا جیسے تیری ماں نے تجھے (گناہوں سے پاک) جنا تھا، پس دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ اور اللہ عزوجل نے نازل فرمایا: ”دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو (بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں)“ [سورۃ ہود: 114]۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبِي ح، وحَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْمِصْرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ قَدْ أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ فِي الْغَرْزِ، وَوَضَعَ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ الرَّحْلِ، وَالْأُخْرَى عَلَى مُؤَخَّرِهِ يَتَطَاوَلُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَنْصِتُوا، فَإِنَّكُمْ لَعَلَّكُمْ لَا تَرَوْنِي بَعْدَ عَامِكُمْ هَذَا» ، فَبَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: مَاذَا نَفْعَلُ؟ قَالَ: «تَعْبُدُونَ رَبَّكُمْ، وَتُقِيمُونَ خَمْسَكُمْ، وَتُؤْتُونَ زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَتَصُومُونَ شَهْرَكُمْ، وَتُطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”…حجۃ الوداع کے دن، جبکہ آپ ﷺ اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار تھے، اپنے پاؤں رکاب میں ڈالے ہوئے، ایک ہاتھ پالان کے اگلے حصے پر اور دوسرا اس کے پچھلے حصے پر رکھے ہوئے، اسی طرح گردن اٹھا کر، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! خاموش ہو جاؤ، شاید تم مجھے اپنے اس سال کے بعد نہ دیکھ سکو۔“ تو اللہ عزوجل نے لوگوں میں سے ایک شخص کو (آواز پہنچانے کے لیے) بھیجا، اس نے پوچھا: ہم کیا کریں؟ فرمایا: ”اپنے رب کی عبادت کرو، اپنی پانچ نمازیں قائم کرو، اپنے مالوں کی زکاۃ دو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اور اپنے حاکموں کی اطاعت کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبِي ح، وحَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَتَمَةِ: أَنِ احْشُدُوا لِلصَّلَاةِ غَدَا، فَإِنَّ لِي إِلَيْكُمْ حَاجَةً. فَقَالَتْ رُفْقَةٌ مِنْهُمْ: يَا فُلَانُ دَوِّنْ أَوَّلَ كَلِمَةٍ يَتَكَلَّمُ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَأَنْتَ الَّذِي تَلِيهَا لِئَلَّا يَفُوتَهُمْ شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: «هَلْ حَشَدْتُمْ كَمَا أَمَرْتُكُمْ؟» قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: «اعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَهَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «أَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، أَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، أَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟» قَالُوا: نَعَمْ فَكُنَّا نَرَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ سَيَتَكَلَّمُ كَلَامًا كَثِيرًا، ثُمَّ نَظَرَ فِي كَلَامِهِ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَمَعَ لَهُ الْأَمْرَ كُلَّهُ
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”…اور تم اس کی نگرانی کرنے والے ہو تاکہ رسول اللہ ﷺ کی کوئی بات ان سے چھوٹنے نہ پائے، تو جب آپ ﷺ فجر کی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کیا تم اسی طرح جمع ہوئے جیسے میں نے تمہیں حکم دیا تھا؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ۔ فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟ کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟ کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: ”نماز قائم کرو، اور زکاۃ ادا کرو، نماز قائم کرو، اور زکاۃ ادا کرو، نماز قائم کرو، اور زکاۃ ادا کرو، کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟ کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟ کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: ”سنو اور اطاعت کرو، سنو اور اطاعت کرو، کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟ کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟ کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو ہمیں یہ گمان تھا کہ رسول اللہ ﷺ اب طویل گفتگو فرمائیں گے، لیکن پھر ہم نے آپ ﷺ کی گفتگو پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے اس میں پورا معاملہ سمیٹ دیا تھا۔“