❮
❯
حدیث نمبر: 7647
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبِي ح، وحَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَتَمَةِ: أَنِ احْشُدُوا لِلصَّلَاةِ غَدَا، فَإِنَّ لِي إِلَيْكُمْ حَاجَةً. فَقَالَتْ رُفْقَةٌ مِنْهُمْ: يَا فُلَانُ دَوِّنْ أَوَّلَ كَلِمَةٍ يَتَكَلَّمُ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَأَنْتَ الَّذِي تَلِيهَا لِئَلَّا يَفُوتَهُمْ شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: «هَلْ حَشَدْتُمْ كَمَا أَمَرْتُكُمْ؟» قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: «اعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَهَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «أَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، أَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، أَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقِلْتُمْ هَذِهِ؟» قَالُوا: نَعَمْ فَكُنَّا نَرَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ سَيَتَكَلَّمُ كَلَامًا كَثِيرًا، ثُمَّ نَظَرَ فِي كَلَامِهِ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَمَعَ لَهُ الْأَمْرَ كُلَّهُ
ترجمہ

سلیم بن عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز کے وقت اپنے صحابہ کو حکم دیا: کل نماز کے لیے جمع ہو جانا، کیونکہ مجھے تمہارے ساتھ ایک کام ہے۔ تو ان میں سے ایک گروہ نے کہا: اے فلاں! رسول اللہ ﷺ جو پہلا کلمہ بولیں اسے لکھ لینا، اور تم اس کے بعد والا لکھنا، تاکہ رسول اللہ ﷺ کی کوئی بات ان سے چھوٹنے نہ پائے، تو جب آپ ﷺ فجر کی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کیا تم اسی طرح جمع ہوئے جیسے میں نے تمہیں حکم دیا تھا؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ۔ فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟ کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟ کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: ”نماز قائم کرو، اور زکاۃ ادا کرو، نماز قائم کرو، اور زکاۃ ادا کرو، نماز قائم کرو، اور زکاۃ ادا کرو، کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟ کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟ کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: ”سنو اور اطاعت کرو، سنو اور اطاعت کرو، کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟ کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟ کیا تم نے یہ بات سمجھ لی؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو ہمیں یہ گمان تھا کہ رسول اللہ ﷺ اب طویل گفتگو فرمائیں گے، لیکن پھر ہم نے آپ ﷺ کی گفتگو پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے اس میں پورا معاملہ سمیٹ دیا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7647
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 162، حدیث 7678