المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن الوليد الزبيدي، عن سليم بن عامر باب: محمد بن ولید زبیدی کی سلیم بن عامر سے روایات
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبِي ح، وحَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْمِصْرِيُّ، وعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعُتْبِيُّ الْمِصْرِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللهِ مَرَّةً أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: «أَيْنَ الْقَائِلُ أَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللهِ؟» قَالَ: أَنَا ذَا، قَالَ: «أَتْمَمْتَ الْوُضُوءَ، وَصَلَّيْتَ مَعَنَا الْعِشَاءَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنَّكَ مِنْ خَطِيئَتِكَ كَمَا وَلَدَتْكَ أُمُّكَ، فَلَا تَعُدْ» ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ} [هود: ١١٤]سلیم بن عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ پر اللہ کی حد قائم کر دیجیے، ایک یا دو بار (یہی کہا)، تو آپ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر نماز کھڑی ہو گئی، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”وہ کہنے والا کہاں ہے جو کہہ رہا تھا کہ مجھ پر اللہ کی حد قائم کریں؟“ اس نے کہا: میں ہوں۔ فرمایا: ”کیا تو نے مکمل وضو کیا اور ہمارے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”تو بیشک تیرا گناہ اس طرح معاف کر دیا گیا جیسے تیری ماں نے تجھے جنا تھا، پس دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ اور اللہ عزوجل نے نازل فرمایا: ”دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو“ [سورۃ ہود: 114]۔