حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَا: ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ غُلَامًا شَابًّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ائْذَنْ لِي فِي الزِّنَا، فَصَاحَ النَّاسُ فَقَالَ: «مَهْ» ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «أَقِرُّوهُ ادْنُ» ، فَدَنَا حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ، أَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ، أَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ، أَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ؟ أَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ» . فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ، وَقَالَ: «اللهُمَّ كَفِّرْ ذَنْبَهُ، وَطَهِّرْ قَلْبَهُ، وَحَصِّنْ فَرْجَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نوجوان رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے۔ لوگوں نے اسے ڈانٹا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رکو (اسے کچھ نہ کہو)۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قریب بٹھاؤ۔“ وہ قریب آ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تو یہ اپنی ماں کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی ماؤں کے لیے پسند نہیں کرتے، کیا تو یہ اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے، کیا تو یہ اپنی بہن کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے، کیا تو یہ اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند نہیں کرتے، کیا تو یہ اپنی خالہ کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی خالاؤں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس کے سینے پر رکھا اور فرمایا: ”اے اللہ! اس کے گناہ کو بخش دے، اس کے دل کو پاک کر دے، اور اس کی شرمگاہ کو محفوظ رکھ۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وحَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «مَا كَانَ يَفْضُلُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ خُبْزُ الشَّعِيرِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے پاس جو کے کھانے کے سوا کچھ بچا نہیں رہتا تھا۔“