حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ح وثَنًا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، قَالَا: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ قَالَ: «هَلْ تَوَضَّأْتَ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَهَلْ صَلَّيْتَ حِينَ صَلَّيْنَا؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «اذْهَبْ، فَقَدْ عَفَا اللهُ عَنْكَ»
ترجمہ
…آپ ﷺ نے اس سے اعراض فرمایا، پھر اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ، مجھ سے ایک حد سرزد ہوئی ہے، مجھ پر وہ قائم کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے پھر اعراض فرمایا۔ اتنے میں نماز کھڑی ہو گئی، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو اس نے پھر عرض کیا: یا رسول اللہ، مجھ سے ایک حد سرزد ہوئی ہے، مجھ پر وہ قائم کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے وضو کیا تھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی جب ہم نے پڑھی؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، اللہ نے تمہیں معاف کر دیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سُورَةَ الْبَغْدَادِيُّ، ومُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، وعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَأَعَادَ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ. قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَخَرَجَ قَالَ شَدَّادٌ، فَحَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، قَالَ: إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَالرَّجُلُ يَتْبَعُهُ وَهُوَ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «حِينَ خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ تَوَضَّأْتَ، فَأَحْسَنْتَ؟» قَالَ: بَلَى. قَالَ: «وَشَهِدَتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا؟» قَالَ: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ» أَوْ قَالَ: «دَيْنَكَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ ایک شخص آپ ﷺ کے پیچھے آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ، مجھ سے ایک حد سرزد ہوئی ہے، مجھ پر وہ قائم کر دیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”جب تم اپنے گھر سے نکلے تو کیا تم نے اچھی طرح وضو کیا تھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اور کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز میں شرکت کی؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک اللہ عزوجل نے تمہاری وہ خلاف ورزی — یا فرمایا: تمہارا وہ قرض — معاف کر دیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا قُرَادُ أَبُو نُوحٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «إِنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ تُمْسِكْهُ شَرٌّ لَكَ، وَلَا يُلَامُ عَلَى الْكَفَافِ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اگر تُو اپنا فاضل مال خرچ کرے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے، اور اگر تُو اسے روکے رکھے تو یہ تیرے لیے برا ہے، اور جتنا کافی ہو اس پر ملامت نہیں، اور جن کی کفالت تیرے ذمے ہے ان سے آغاز کر، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الرُّومِيِّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، أَنَّ شَدَّادًا أَبَا عَمَّارٍ، حَدَّثَهُ، ثنا أَبُو أُمَامَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «لَا يَلْبَسِ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا إِلَّا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”دنیا میں ریشم صرف وہی پہنتا ہے جس کا کوئی حصہ نہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ هُودِ بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شَدَّادًا أَبَا عَمَّارٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَلْتَمِسُ الْخَيْرَ وَالذِّكْرَ مَا لَهُ؟ قَالَ: «لَا شَيْءَ لَهُ» - يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا خَلَصَ لَهُ، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو نیکی اور شہرت دونوں چاہتا ہے، اسے کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کچھ نہیں ملے گا“ — یہ بات آپ ﷺ نے تین بار دہرائی — ”بےشک اللہ عزوجل عمل میں سے صرف وہی قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور جس سے اسی کی رضا مقصود ہو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ الْأُبُلِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا جَسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ، ثنا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ الْقَيْسِيُّ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: " لَمَّا بَلَغَ وَلَدُ مَعْدِ بْنِ عَدْنَانَ أَرْبَعِينَ رَجُلًا، وَقَفُوا عَلَى عَسْكَرِ مُوسَى صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ وَانْتَهَبُوهُ، فَدَعَا عَلَيْهِمْ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: يَا رَبِّ هَؤُلَاءِ وَلَدُ مَعْدٍ قَدْ أَغَارُوا عَلَى عَسْكَرِي، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ، يَا مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ، لَا تَدْعُوا عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ مِنْهُمِ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ النَّذِيرَ الْبَشِيرَ بِجَنَّتِي، وَمِنْهُمِ الْأُمَّةَ الْمَرْحُومَةَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ الَّذِينَ يَرْضَوْنَ مِنَ اللهِ بِالْيَسِيرِ مِنَ الرِّزْقِ، وَيَرْضَى اللهُ مِنْهُمْ بِالْقَلِيلِ مِنَ الْعَمَلِ، فَيُدْخِلُهُمُ اللهُ الْجَنَّةَ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، لِأَنَّ نَبِيَّهُمْ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمُتَوَاضِعَ فِي هَيْئَتِهِ، الْمُجْتَمِعَ لَهُ اللُّبُّ فِي سُكُوتِهِ يَنْطِقُ بِالْحِكْمَةِ، وَيَسْتَعْمِلُ الْحِلْمَ، أَخْرَجْتُهُ مِنْ خَيْرِ جِيلٍ مِنْ أُمَّتِهِ قُرَيْشًا، ثُمَّ أَخْرَجْتُهُ مِنْ هَاشِمٍ صَفْوَةِ قُرَيْشٍ، فَهُمْ خَيْرٌ مِنْ خَيْرٍ إِلَى خَيْرٍ يَصِيرُ، وَأُمَّتُهُ إِلَى خَيْرٍ يَصِيرُونَ "
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جب معد بن عدنان کی اولاد چالیس آدمیوں تک پہنچی تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے لشکر پر حملہ کر کے اسے لوٹ لیا، تو موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے ان کے خلاف بددعا کی اور عرض کیا: اے میرے رب، یہ معد کی اولاد ہیں جنہوں نے میرے لشکر پر چھاپہ مارا ہے۔ اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی: اے موسیٰ بن عمران! ان کے خلاف بددعا نہ کرو، کیونکہ انہی میں سے وہ اُمّی نبی نکلے گا جو میری جنت کی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا ہو گا، اور انہی میں سے وہ رحمت پائی ہوئی امت نکلے گی — امتِ محمد ﷺ — جو اللہ کی طرف سے تھوڑے رزق پر راضی ہو جائے گی، اور اللہ ان سے تھوڑے عمل پر راضی ہو جائے گا، اللہ انہیں لا الہ الا اللہ کہنے پر جنت میں داخل کرے گا، کیونکہ ان کے نبی محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب اپنی وضع قطع میں متواضع، خاموشی میں سنجیدہ، حکمت کی بات کرنے والے اور بردباری اختیار کرنے والے ہوں گے، میں نے انہیں ان کی امت کے بہترین قبیلے قریش میں سے نکالا، پھر قریش کے چنیدہ خاندان بنو ہاشم میں سے نکالا، تو وہ بہترین در بہترین ہیں اور بہترین کی طرف جانے والے ہیں، اور ان کی امت بھی بھلائی کی طرف جانے والی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جبریل مسلسل مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اسے وارث ہی بنا دیں گے۔“