المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
شداد أبو عمار، عن أبي أمامة رضي الله عنه باب: شداد ابوعمار کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ الْأُبُلِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا جَسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ، ثنا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ الْقَيْسِيُّ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: " لَمَّا بَلَغَ وَلَدُ مَعْدِ بْنِ عَدْنَانَ أَرْبَعِينَ رَجُلًا، وَقَفُوا عَلَى عَسْكَرِ مُوسَى صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ وَانْتَهَبُوهُ، فَدَعَا عَلَيْهِمْ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: يَا رَبِّ هَؤُلَاءِ وَلَدُ مَعْدٍ قَدْ أَغَارُوا عَلَى عَسْكَرِي، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ، يَا مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ، لَا تَدْعُوا عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ مِنْهُمِ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ النَّذِيرَ الْبَشِيرَ بِجَنَّتِي، وَمِنْهُمِ الْأُمَّةَ الْمَرْحُومَةَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ الَّذِينَ يَرْضَوْنَ مِنَ اللهِ بِالْيَسِيرِ مِنَ الرِّزْقِ، وَيَرْضَى اللهُ مِنْهُمْ بِالْقَلِيلِ مِنَ الْعَمَلِ، فَيُدْخِلُهُمُ اللهُ الْجَنَّةَ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، لِأَنَّ نَبِيَّهُمْ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمُتَوَاضِعَ فِي هَيْئَتِهِ، الْمُجْتَمِعَ لَهُ اللُّبُّ فِي سُكُوتِهِ يَنْطِقُ بِالْحِكْمَةِ، وَيَسْتَعْمِلُ الْحِلْمَ، أَخْرَجْتُهُ مِنْ خَيْرِ جِيلٍ مِنْ أُمَّتِهِ قُرَيْشًا، ثُمَّ أَخْرَجْتُهُ مِنْ هَاشِمٍ صَفْوَةِ قُرَيْشٍ، فَهُمْ خَيْرٌ مِنْ خَيْرٍ إِلَى خَيْرٍ يَصِيرُ، وَأُمَّتُهُ إِلَى خَيْرٍ يَصِيرُونَ "سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جب معد بن عدنان کی اولاد چالیس آدمیوں تک پہنچی تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے لشکر پر حملہ کر کے اسے لوٹ لیا، تو موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے ان کے خلاف بددعا کی اور عرض کیا: اے میرے رب، یہ معد کی اولاد ہیں جنہوں نے میرے لشکر پر چھاپہ مارا ہے۔ اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی: اے موسیٰ بن عمران! ان کے خلاف بددعا نہ کرو، کیونکہ انہی میں سے وہ اُمّی نبی نکلے گا جو میری جنت کی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا ہو گا، اور انہی میں سے وہ رحمت پائی ہوئی امت نکلے گی — امتِ محمد ﷺ — جو اللہ کی طرف سے تھوڑے رزق پر راضی ہو جائے گی، اور اللہ ان سے تھوڑے عمل پر راضی ہو جائے گا، اللہ انہیں لا الہ الا اللہ کہنے پر جنت میں داخل کرے گا، کیونکہ ان کے نبی محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب اپنی وضع قطع میں متواضع، خاموشی میں سنجیدہ، حکمت کی بات کرنے والے اور بردباری اختیار کرنے والے ہوں گے، میں نے انہیں ان کی امت کے بہترین قبیلے قریش میں سے نکالا، پھر قریش کے چنیدہ خاندان بنو ہاشم میں سے نکالا، تو وہ بہترین در بہترین ہیں اور بہترین کی طرف جانے والے ہیں، اور ان کی امت بھی بھلائی کی طرف جانے والی ہے۔“