حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَصَلُّوا فِي مُرَاحِ الشَّاءِ»
ترجمہ
سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو، اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَضَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَقُولُ: «مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ» ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسْ» ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُضَاعَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرٍ»
ترجمہ
سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک دن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہاں معد (بن عدنان کی نسل) میں سے جو کوئی ہو وہ کھڑا ہو جائے۔“ تو عمرو بن مرہ جہنی کھڑے ہو گئے، نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ آپ ﷺ نے ایسا تین بار کیا، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قضاعہ بن مالک بن حمیر (کی نسل سے ہو)۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سَبْرَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَفَعَهُ قَالَ: نَشَأَتْ سَحَابَةٌ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا كُنَّا نَرْجُو أَنْ تُمْطِرَنَا هَذِهِ السَّحَابَةُ، فَقَالَ: «هَذِهِ سَحَابَةٌ أُمِرَتْ أَنْ تُمْطِرَ - يَعْنِي الْوَادِيَ»
ترجمہ
سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا کہ ایک بادل اٹھا تو نبی کریم ﷺ کے صحابہ نے کہا: ہمیں امید تھی کہ یہ بادل ہم پر برسے گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایسا بادل ہے جسے برسنے کا حکم دیا گیا ہے“ - یعنی (اس) وادی پر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا سَبْرَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: رَأَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَحَابَةً، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنَّا نَرْجُو أَنْ تُمْطِرَنَا هَذِهِ السَّحَابَةُ، فَقَالَ: «أُمِرَتْ أَنْ تُمْطِرَ بَلِيلَ» , يَعْنِي: وَادِيًا يُقَالُ لَهُ بَلِيلُ
ترجمہ
سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے ایک بادل دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں امید تھی کہ یہ بادل ہم پر برسے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے وادیِ بلیل پر برسنے کا حکم دیا گیا ہے“ - یعنی ایک وادی جسے بلیل کہا جاتا ہے۔