کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: حماد بن زید کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ عَوْفٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: «يَا بِلَالُ إِنْ حَضَرَتِ الْعَصْرُ وَلَمْ آتِكَ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ أَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي الصَّلَاةِ، فَشَقَّ بِالنَّاسِ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ وَصَفَّحَ الْقَوْمُ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْرُغَ، فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لَا يُمْسِكُ عَنْهُ الْتَفَتَ، فَرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْضِهِ وَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، قَالَ: فَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيْهَةً فَحَمِدَ اللهَ عَلَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ مَشَى الْقَهْقَرَى، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ؟» ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَالَ لِلْقَوْمِ: «إِذَا رَابَكُمْ أَمَرٌ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ ولِتُصَفِّقِ النِّسَاءُ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَارِمٍ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف بن عوف کے درمیان لڑائی ہو گئی، یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر ان کے پاس صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! اگر عصر کا وقت آ جائے اور میں تمہارے پاس واپس نہ آؤں تو ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ جب عصر کا وقت ہوا تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان اور اقامت کہی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ آگے بڑھے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اس حال میں تشریف لائے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، تو آپ ﷺ لوگوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے والی صف میں کھڑے ہو گئے، اور لوگ تالی بجانے لگے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب وہ نماز میں داخل ہوتے تو نماز مکمل کیے بغیر کبھی مڑ کر نہ دیکھتے، مگر جب دیکھا کہ تالی بجنا بند ہی نہیں ہو رہا تو مڑ کر دیکھا، تو نبی کریم ﷺ کو اپنے پیچھے پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ نماز جاری رکھیں اور اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ تھوڑی دیر رکے رہے، پھر نبی کریم ﷺ کے فرمانے پر اللہ کا شکر ادا کیا، پھر پیچھے کی طرف چلے۔ جب نبی کریم ﷺ نے یہ دیکھا تو آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ اپنی نماز مکمل کر چکے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کیا تھا تو تمہیں نماز جاری رکھنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھائے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: ”جب تمہیں کوئی بات پیش آئے تو مرد تسبیح کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5911
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 182، حدیث 5932
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا بَلَّغَ اللهُ الْعَبْدَ سِتِّينَ، فَقَدْ أَعْذَرَ إِلَيْهِ وَأَبْلَغَ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو ساٹھ سال کی عمر تک پہنچا دے تو وہ اس کے حق میں عذر ختم کر چکا ہوتا ہے اور اسے عمر میں پوری مہلت دے چکا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5912
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 183، حدیث 5933
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْعَبَّادَانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا لِي فِي النِّسَاءِ الْيَوْمَ مِنْ حَاجَةٍ» ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ: «مَا عِنْدَكَ؟» فَقَالَ: مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: «أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» ، قَالَ: مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: «فَمَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟» قَالَ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: «فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَارِمٍ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے اپنے آپ کو نکاح کے لیے پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج مجھے عورتوں کی کوئی حاجت نہیں۔“ اس پر ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارے پاس کیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کچھ دو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں قرآن میں سے کیا یاد ہے؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے اس کا نکاح تم سے کر دیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5913
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 183، حدیث 5934
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَخَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَرَجَعَ مِنَ الطَّرِيقِ يَنْظُرُ إِلَى أَهْلِهِ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ قَائِمَةٍ فِي الْحُجْرَةِ، فَبَوَّأَ إِلَيْهَا الرُّمْحَ، فَقَالَتِ: ادْخُلِ انْظُرْ مَا فِي الْبَيْتِ، فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُتَطَوِّقَةٍ عَلَى فِرَاشِهِ، فَانْتَظَمَهَا بِرُمْحِهِ، ثُمَّ رَكَزَ الرُّمْحَ فِي الدَّارِ، وانْتَفَضَتِ الْحَيَّةُ وانْتَفَضَ الرَّجُلُ، فَمَاتَتِ الْحَيَّةُ وَمَاتَ الرَّجُلُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّهُ نَزَلَ الْمَدِينَةَ جِنٌّ مُسْلِمُونَ، أَوْ قَالَ: لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَتَعَوَّذُوا مِنْهُ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک نوجوان تازہ شادی شدہ تھا، وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں نکلا، پھر راستے سے اپنے گھر والوں کو دیکھنے کے لیے واپس آیا، تو دیکھا کہ اس کی بیوی کمرے کے دروازے پر کھڑی ہے۔ اس نے اس پر نیزہ تان لیا، تو اس عورت نے کہا: اندر جاؤ اور دیکھو کہ گھر میں کیا ہے؟ وہ اندر گیا تو دیکھا کہ ایک سانپ اس کے بستر پر کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ اس نے اسے اپنے نیزے پر پرو لیا، پھر نیزے کو گھر کے صحن میں گاڑ دیا۔ سانپ نے تڑپ کر جھٹکا دیا اور اس آدمی نے بھی جھٹکا کھایا، پھر سانپ بھی مر گیا اور وہ آدمی بھی مر گیا۔ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ سے بیان کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مدینہ میں کچھ مسلمان جن آ کر بس گئے ہیں“، یا فرمایا: ”ان گھروں میں سانپ رہتے ہیں، جب تم ان میں سے کچھ دیکھو تو پہلے (تین دن تک) اس سے چلے جانے کا کہو، پھر اگر وہ لوٹ آئے تو اسے مار ڈالو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5914
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 183، حدیث 5935