کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: مبشر بن مکسر، اہلِ مدینہ کے ایک شیخ جو بصرہ میں رہائش اختیار کر گئے، کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُبَشِّرُ بْنُ مُكَسِّرٍ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْجَنَّةِ بَابٌ يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، يُدْعَى إِلَيْهِ الصَّائِمُونَ، يُقَالُ لَهُمْ: هَلُمُّوا، فَإِذَا دَخَلُوا أَغْلَقُوا ذَلِكَ الْبَابَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْ "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، روزہ داروں کو اس کی طرف بلایا جاتا ہے، ان سے کہا جاتا ہے: آ جاؤ، پھر جب وہ سب داخل ہو جاتے ہیں تو وہ دروازہ بند کر دیا جاتا ہے، پھر ان کے ساتھ کوئی اور داخل نہیں ہوتا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ زَيْدٍ السَّامِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُبَشِّرُ بْنُ مُكَسِّرٍ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلُّونَ وَهُمْ مُعْقِدُونَ أُزُرَهُمْ فِي أَرْقَابِهِمْ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ تنگ دستی کی وجہ سے اپنے تہبند اپنی گردنوں میں باندھ کر نماز پڑھا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثنا مُبَشِّرُ بْنُ مُكَسِّرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَسَكَتَ، فَقَامَتْ حَتَّى رَثَيْنَا لَهَا مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «مَا تُصْدِقُهَا؟» قَالَ: هَذِهِ الشَّمْلَةَ الَّتِي عَلَيَّ، لَيْسَ عِنْدِي غَيْرُهَا، قَدْ عَقَدَهَا عَلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ: «أَرَأَيْتَ إِنْ عَرَّسْتَ، أَعِنْدَكَ غَيْرُهَا؟» قَالَ: لَا وَاللهِ، قَالَ: «اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» ، فَذَهَبَ فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: مَا وَجَدْتُ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: «مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟» قَالَ: آيَةُ كَذَا وَآيَةُ كَذَا، قَالَ: فَقَالَ: «فَقَدْ زَوَّجْتُكَ عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے اپنے آپ کو نکاح کے لیے پیش کیا تو آپ ﷺ خاموش رہے۔ وہ کھڑی رہی یہاں تک کہ ہمیں اس کے طویل کھڑے رہنے پر ترس آنے لگا۔ اس پر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم اسے مہر میں کیا دو گے؟“ اس نے کہا: یہی چادر جو میرے اوپر ہے، اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں، اور اس نے وہ چادر اپنے سینے پر باندھ رکھی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ، اگر تم شادی کرو تو کیا تمہارے پاس اس کے سوا کچھ ہوگا؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور کچھ تلاش کرو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔“ وہ گیا اور جتنی دیر اللہ نے چاہی ٹھہرا، پھر واپس آ کر عرض کیا: مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں قرآن میں سے کیا یاد ہے؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں آیت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے اس کا نکاح تم سے کر دیا۔“