المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حماد بن زيد، عن أبي حازم باب: حماد بن زید کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَخَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَرَجَعَ مِنَ الطَّرِيقِ يَنْظُرُ إِلَى أَهْلِهِ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ قَائِمَةٍ فِي الْحُجْرَةِ، فَبَوَّأَ إِلَيْهَا الرُّمْحَ، فَقَالَتِ: ادْخُلِ انْظُرْ مَا فِي الْبَيْتِ، فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُتَطَوِّقَةٍ عَلَى فِرَاشِهِ، فَانْتَظَمَهَا بِرُمْحِهِ، ثُمَّ رَكَزَ الرُّمْحَ فِي الدَّارِ، وانْتَفَضَتِ الْحَيَّةُ وانْتَفَضَ الرَّجُلُ، فَمَاتَتِ الْحَيَّةُ وَمَاتَ الرَّجُلُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّهُ نَزَلَ الْمَدِينَةَ جِنٌّ مُسْلِمُونَ، أَوْ قَالَ: لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَتَعَوَّذُوا مِنْهُ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ "سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک نوجوان تازہ شادی شدہ تھا، وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں نکلا، پھر راستے سے اپنے گھر والوں کو دیکھنے کے لیے واپس آیا، تو دیکھا کہ اس کی بیوی حجرے میں کھڑی ہے۔ اس نے اس پر نیزہ تان لیا، تو اس عورت نے کہا: اندر جاؤ اور دیکھو کہ گھر میں کیا ہے؟ وہ اندر گیا تو دیکھا کہ ایک سانپ اس کے بستر پر کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ اس نے اسے اپنے نیزے پر پرو لیا، پھر نیزے کو گھر کے صحن میں گاڑ دیا۔ سانپ نے تڑپ کر جھٹکا دیا اور اس آدمی نے بھی جھٹکا کھایا، پھر سانپ بھی مر گیا اور وہ آدمی بھی مر گیا۔ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ سے بیان کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مدینہ میں کچھ مسلمان جن آ کر بس گئے ہیں“، یا فرمایا: ”ان گھروں کے کچھ رہنے والے (جن) ہیں، جب تم ان میں سے کچھ دیکھو تو اس سے (اللہ کی) پناہ مانگو، پھر اگر وہ دوبارہ آئے تو اسے مار ڈالو۔“