حدیث نمبر: 5911
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ عَوْفٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: «يَا بِلَالُ إِنْ حَضَرَتِ الْعَصْرُ وَلَمْ آتِكَ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ أَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي الصَّلَاةِ، فَشَقَّ بِالنَّاسِ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ وَصَفَّحَ الْقَوْمُ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْرُغَ، فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لَا يُمْسِكُ عَنْهُ الْتَفَتَ، فَرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْضِهِ وَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، قَالَ: فَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيْهَةً فَحَمِدَ اللهَ عَلَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ مَشَى الْقَهْقَرَى، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ؟» ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَالَ لِلْقَوْمِ: «إِذَا رَابَكُمْ أَمَرٌ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ ولِتُصَفِّقِ النِّسَاءُ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَارِمٍ
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف بن عوف کے درمیان لڑائی ہو گئی، یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر ان کے پاس صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! اگر عصر کا وقت آ جائے اور میں تمہارے پاس واپس نہ آؤں تو ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ جب عصر کا وقت ہوا تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان اور اقامت کہی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ آگے بڑھے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اس حال میں تشریف لائے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، تو آپ ﷺ لوگوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے والی صف میں کھڑے ہو گئے، اور لوگ تالی بجانے لگے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب وہ نماز میں داخل ہوتے تو نماز مکمل کیے بغیر کبھی مڑ کر نہ دیکھتے، مگر جب دیکھا کہ تالی بجنا بند ہی نہیں ہو رہا تو مڑ کر دیکھا، تو نبی کریم ﷺ کو اپنے پیچھے پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ نماز جاری رکھیں اور اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ تھوڑی دیر رکے رہے، پھر نبی کریم ﷺ کے فرمانے پر اللہ کا شکر ادا کیا، پھر پیچھے کی طرف چلے۔ جب نبی کریم ﷺ نے یہ دیکھا تو آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ اپنی نماز مکمل کر چکے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کیا تھا تو تمہیں نماز جاری رکھنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھائے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: ”جب تمہیں کوئی بات پیش آئے تو مرد تسبیح کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5911
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 182، حدیث 5932