❮
❯
حدیث نمبر: 5895
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ: بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَسَأَلُوا سَهْلًا وَكَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: «مَا بَقِيَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِي بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ، فَأَخَذَ حَصِيرًا فَأُحْرِقَ، وَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ»
ترجمہ

ابوحازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں میں اختلاف ہو گیا کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے زخم کا علاج کس چیز سے کیا گیا تھا؟ تو انہوں نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے پوچھا، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے مدینہ میں سب سے آخر تک باقی رہنے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ”مسلمانوں میں اب کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہو۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لا رہے تھے۔ پھر ایک چٹائی لے کر جلائی گئی اور اسی سے آپ کا زخم بھر دیا گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5895
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 177، حدیث 5916