المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سفيان بن عيينة، عن أبي حازم باب: سفیان بن عیینہ کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ وَهَبَتُ نَفْسِي لَكَ فَرَأْ فِيَّ رَأْيَكَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْكِحْنِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ فِيهَا حَاجَةٌ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَتْ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنْكِحْنِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ فِيهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ: «هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تُعْطِيهَا إِيَّاهُ؟» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَاذْهَبْ فَاطْلُبْ شَيْئًا» ، فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ: «اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» ، فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، قَالَ: «اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس مجلس میں موجود تھا کہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، آپ میرے بارے میں اپنی رائے پر عمل فرمائیں۔ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔ پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے وہی بات دہرائی۔ اس پر اس آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو تم اسے دے سکو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، کچھ تلاش کرو۔“ وہ گیا، پھر واپس آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کچھ نہیں ملا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔“ وہ گیا، پھر واپس آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کچھ نہیں ملا، لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں قرآن میں سے کچھ یاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، فلاں فلاں سورت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے تمہارا نکاح اس سے کر دیا۔“