حدیث نمبر: 5892
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو حَازِمٍ قَالَ: سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ مِنْبَرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «وَمَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ. عَمِلَهُ لَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانَةَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَعَدَ عَلَيْهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ، ثُمَّ صَعَدَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى، ثُمَّ سَجَدَ»
ترجمہ

ابوحازم بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کا منبر کس چیز سے بنا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”لوگوں میں کوئی بھی اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ نہیں جانتا، وہ جنگل کی جھاؤ کی لکڑی سے بنا تھا، اسے فلاں شخص نے بنایا تھا جو فلاں عورت کا غلام تھا۔ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ اس پر چڑھے تو قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہی، پھر قرأت کی، پھر رکوع کیا، پھر پیچھے کی طرف اترے اور سجدہ کیا، پھر چڑھے، پھر قرأت کی، پھر رکوع کیا، پھر پیچھے کی طرف اترے، پھر سجدہ کیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5892
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 175، حدیث 5913