کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سعید بن عبدالرحمن جمحی کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَبُولُ قَائِمًا، قَالَ: وَقَدْ كَانَ كَبُرَ، حَتَّى لَا يَكَادُ يَمْلِكُ ذَلِكَ مِنْهُ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: أَلَا تَنْزِعُ خُفَّيْكَ؟ قَالَ: «رَأَيْتُ خَيْرًا مِنِّي يَصْنَعُ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے... وہ بوڑھے ہو چکے تھے، یہاں تک کہ اس پر قابو رکھنا مشکل ہو گیا تھا، پھر انہوں نے پانی منگوایا، وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: آپ اپنے موزے کیوں نہیں اتارتے؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اپنے سے بہتر شخص کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5801
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 153، حدیث 5822
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، وَانْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، خَرَجَ النِّسَاءُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ يَغِيثُونَهُمْ، فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ خَرَجَ، فَلَمَّا لَقِيتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَنَقَتْهُ، وَجَعَلَتْ تَغْسِلُ جِرَاحَاتِهِ بِالْمَاءِ فَيَزْدَادُ الدَّمُ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهُ بِالنَّارِ، فَكَمَدَتْهُ حَتَّى لَصَقَ بِالْجُرْحِ وَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب غزوہ احد کا دن ہوا اور مشرکین رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاس سے لوٹ گئے تو عورتیں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی مدد کے لیے نکلیں، ان میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ سے ملیں تو آپ سے لپٹ گئیں اور پانی سے آپ کے زخم دھونے لگیں، مگر خون اور بڑھتا گیا۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر اسے آگ سے جلایا، پھر اسے زخم پر رکھ کر دبایا یہاں تک کہ وہ زخم سے چپک گیا اور خون بند ہو گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5802
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 153، حدیث 5823
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّازُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَابَهُ فِي صَلَاتِهِ شَيْءٌ فَلْيُسَبِّحْ، يَقُولُ: سُبْحَانَ اللهِ، فَإِنَّ التَّسْبِيحَ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کو نماز میں کوئی بات پیش آئے تو وہ ’سبحان اللہ‘ کہہ کر تسبیح کرے، کیونکہ تسبیح مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5803
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 153، حدیث 5824
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک آدمی لوگوں کے سامنے جنتیوں والے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جہنمیوں میں سے ہوتا ہے، اور بیشک آدمی لوگوں کے سامنے جہنمیوں والے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5804
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 154، حدیث 5825
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الْجَنَّةِ بَابٌ يُدْعَى الرَّيَّانَ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ إِلَّا الصَّائِمُونَ، فَإِذَا دَخَلُوا مِنْهُ أُغْلِقَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، اس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے، جب وہ سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو وہ بند کر دیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5805
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 154، حدیث 5826
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ: «فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5806
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 154، حدیث 5827