حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهِجْرَةِ، فَقَالَ لَهُ: «يَا عَمِّ، أَقِمْ مَكَانَكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ، فَإِنَّ اللهَ يَخْتِمُ بِكَ الْهِجْرَةَ، كَمَا خَتَمَ بِيَ النُّبُوَّةَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے ہجرت کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”چچا جان! آپ اپنی اسی جگہ ٹھہرے رہیں جہاں آپ ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ ہی پر ہجرت کو ختم کرے گا، جیسے میرے ذریعے نبوت کو ختم کیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ فِي يَوْمٍ حَارٍّ، فَوُضِعَ لَهُ مَاءٌ يَتَبَرَّدُ بِهِ، فَجَاءَ الْعَبَّاسُ رَحِمَهُ اللهُ، فَوَلَّاهُ ظَهْرَهُ وَسَتَرَهُ بِكِسَاءٍ كَانَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» ، فَقَالَ: عَمُّكَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى طَلَعَتْ عَلَيْنَا مِنَ الْكِسَاءِ، وَقَالَ: «سَتَرَكَ اللهُ يَا عَمِّ، وذُرِّيَّتَكَ مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک گرم دن اپنے کسی غزوے سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ کے لیے ٹھنڈا ہونے کے لیے پانی رکھا گیا، اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے ان کی طرف پیٹھ کر لی اور جو چادر اوڑھی ہوئی تھی اس سے پردہ کر لیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کے چچا عباس ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ فارغ ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ وہ چادر سے ہمیں نظر آنے لگے، اور فرمایا: ”اے چچا! اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی اولاد کو آگ سے بچائے۔“