کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا سعد بن تمیم ابوبلال سکونی رضی اللہ عنہ، دمشق شام میں رہتے تھے
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ شَرَاحِيلَ الْعَنْسِيُّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ أُمَّتِكَ خَيْرٌ؟ قَالَ: «أَنَا وَأَقْرَانِي» . قُلْنَا: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «، ثُمَّ الْقَرْنُ الثَّانِي» . قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «، ثُمَّ الْقَرْنُ الثَّالِثُ» . قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «، ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ يَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، ويُؤْتَمَنُونَ وَلَا يُؤَدُّونَ»
ترجمہ
…بلال بن سعد اپنے والد سعد بن تمیم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی امت میں سب سے بہتر کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اور میرے ہمعصر۔“ ہم نے عرض کیا: پھر یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر دوسری نسل۔“ میں نے عرض کیا: پھر یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تیسری نسل۔“ میں نے عرض کیا: پھر یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ایسے لوگ آئیں گے جو بغیر کہے قسم کھائیں گے، بغیر مانگے گواہی دیں گے، اور امانت دار بنائے جانے کے باوجود امانت ادا نہیں کریں گے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لِلْخَلِيفَةِ بَعْدَكِ؟ قَالَ: «مَا لِي مَا رَحِمَ ذَا الرَّحِمِ، وأَقْسَطَ فِي الْقِسْطِ، وَعَدَلَ فِي الْقِسْمَةِ»
ترجمہ
…بلال بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، جن کی صحبت ثابت تھی، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے بعد خلیفہ کے لیے کیا شرط ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہی جو میرے لیے تھی: جس نے رشتہ داروں پر رحم کیا، انصاف میں منصف رہا، اور تقسیم میں عدل کیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ بَنُوكَ؟» ، قُلْتُ: هَا هُمْ أُولَاءِ، قَالَ: «فَائْتِنِي بِهِمْ» فَأَمَرْتُ أَهْلِي فَأَلْبَسْتُهُمْ قُمُصًا بَيْضَاءَ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِمْ، فَقَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهُمْ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالضَّلَالَةِ، وَمِنَ الْفَقْرِ الَّذِي يُصِيبُ بَنِي آدَمَ»
ترجمہ
…بلال بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بیٹے کہاں ہیں؟“ میں نے عرض کیا: وہ یہ رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ میں نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا تو انہوں نے انہیں سفید قمیضیں پہنائیں، پھر میں انہیں لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! میں انہیں کفر و گمراہی سے، اور اس فقر سے جو بنی آدم کو پہنچتا ہے، تیری پناہ میں دیتا ہوں۔“