المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعد بن عائذ القرظ المؤذن الأنصاري باب: سیدنا سعد بن عائذ قرظ مؤذن انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 5430
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ الْقَرَظِ، أَنَّ أَبَاهُ، وعُمُومَتَهُ أَخْبَرُوهُ: «أَنَّ سَعْدًا الْقَرَظَ كَانَ مُؤَذِّنًا لِأَهْلِ قُبَاءَ، فَانْتَقَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَاتَّخَذَهُ مُؤَذِّنًا» ، إِنَّ السُّنَّةَ فِي صَلَاةِ الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ أَنْ يُكَبِّرَ الْإِمَامُ فِي الْأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَيُكَبِّرَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ "ترجمہ
حفص بن عمر بن سعد قرظ، اپنے والد اور چچاؤں کے واسطے سے بتاتے ہیں کہ سعد قرظ رضی اللہ عنہ قباء والوں کے مؤذن تھے، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں مدینہ منتقل کر کے اپنا مؤذن بنا لیا۔ سنت یہ ہے کہ عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں امام پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں کہے، اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہے۔