حدیث نمبر: 5429
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْقَرَظُ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يُدْخِلَ أَصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: «إِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ»
«وَإِنَّ أَذَانَ بِلَالٍ كَانَ مَثْنَى ومَثْنَى، وتَشَهُّدُهُ مُضَعَّفٌ، وإِقَامَتُهُ مُفْرَدَةٌ، وَقَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَأَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِلْجُمُعَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَانَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ»
«وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدَيْنِ سَلَكَ عَلَى دَارِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ثُمَّ عَلَى أَصْحَابِ الْفَسَاطِيطِ، ثُمَّ بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ كَبَّرَ فِي الْأُولَى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ انْصَرَفَ مِنَ الطَّرِيقِ الْآخَرِ، مِنْ طَرِيقِ بَنِي زُرَيْقٍ، فَذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ عِنْدَ طَرَفِ الزُّقَاقِ بِيَدِهِ بِشَفْرَةٍ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَى دَارِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَدَارِ أَبِي هُرَيْرَةَ بِالْبَلَاطِ»
«وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدَيْنِ مَاشِيًا، وَيَرْجِعُ مَاشِيًا، وَكَانَ يُكَبِّرُ بَيْنَ أَضْعَافِ الْخُطْبَةِ، وَيُكْثِرُ التَّكْبِيرَ فِي الْخُطْبَةِ لِلْعِيدَيْنِ»
«وَكَانَ إِذَا خَطَبَ فِي الْحَرْبِ، خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ» ، «وَإِذَا خَطَبَ فِي الْجُمُعَةِ، خَطَبَ عَلَى عَصًا» ، وَإِنَّ بِلَالًا كَانَ إِذَا كَبَّرَ بِالْأَذَانِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ يَقُولُ: " اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ مَرَّتَيْنِ، وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَمِينِ الْقِبْلَةِ، فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ، فَيَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ "
ترجمہ

عمار بن سعد قرظ، رسول اللہ ﷺ کے مؤذن، اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سعد قرظ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور فرمایا: ”یہ تمہاری آواز کو بلند کرنے میں زیادہ مددگار ہے۔“
اور یہ کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دو دو بار اور ان کا تشہد دہرایا ہوا ہوتا تھا، جبکہ ان کی اقامت اکہری تھی، اور ”قد قامت الصلاۃ“ صرف ایک بار کہتے تھے۔ اور وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جمعہ کے دن جمعہ کے لیے اذان اس وقت دیتے تھے جب سایہ جوتے کے تسمے کے برابر ہو جاتا۔
اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ جب دونوں عیدوں کے لیے نکلتے تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے گھر کے راستے سے، پھر خیمہ زنوں کے پاس سے گزرتے، پھر خطبے سے پہلے نماز شروع کرتے، پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں کہتے اور دوسری میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہتے، پھر لوگوں کو خطبہ دیتے، پھر دوسرے راستے سے، یعنی بنو زریق کے راستے سے واپس لوٹتے، اور گلی کے سرے پر اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے چھری کے ساتھ ذبح کرتے، پھر سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھروں کے راستے سے بلاط کی طرف نکلتے۔
اور آپ ﷺ عیدوں کے لیے پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے، اور خطبے کے دوران کئی بار تکبیر کہتے اور دونوں عیدوں کے خطبے میں کثرت سے تکبیر کہتے۔
اور جب جنگ کے موقع پر خطبہ دیتے تو کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے، اور جمعہ کے خطبے میں لاٹھی پر ٹیک لگاتے۔ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جب اذان میں تکبیر کہتے تو قبلہ رخ ہوتے، پھر کہتے: اللہ اکبر اللہ اکبر، اشھد ان لا الٰہ الا اللہ (دو بار)، اشھد ان محمداً رسول اللہ (دو بار)، پھر قبلہ رخ ہو کر دائیں طرف مڑتے اور کہتے: حي علی الصلاۃ (دو بار)، پھر بائیں طرف مڑتے اور کہتے: حي علی الفلاح (دو بار)، پھر قبلہ رخ ہو کر کہتے: اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ، واللہ اکبر۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5429
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 39، حدیث 5448