حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ، سَعْدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ بْنِ كَعْبٍ»
ترجمہ
عروہ بیان کرتے ہیں کہ بدر میں شریک ہونے والے انصار میں، پھر بنو عبد بن کعب بن عبدالاشہل میں سے، سیدنا سعد بن زید بن مالک بن عبد بن کعب رضی اللہ عنہ کا نام شامل ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، سَعْدُ بْنُ زَيْدٍ»
ترجمہ
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ بدر میں شریک ہونے والے انصار میں، پھر بنو عبدالاشہل میں سے، سیدنا سعد بن زید رضی اللہ عنہ کا نام شامل ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مَحْمُودٍ، مِنْ وَلَدِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَشْهَلِيِّ، أَنَّهُ: أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفًا مِنْ نَجْرَانَ، أَوْ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفٌ مِنْ نَجْرَانَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَعْطَاهُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ: «جَاهِدْ بِهَذَا فِي سَبِيلِ اللهِ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ النَّاسِ، فَاضْرِبْ بِهِ الْحَجَرَ، ثُمَّ ادْخُلْ بَيْتَكَ، وَكُنْ حِلْسًا مُلْقًى، حَتَّى تَقْتُلَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ، أَوْ تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نجران کی ایک تلوار نبی کریم ﷺ کو تحفے میں دی — یا نجران سے ایک تلوار آپ ﷺ کو ہدیہ کی گئی — جب وہ آپ ﷺ کے پاس پہنچی تو آپ ﷺ نے وہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرما دی اور فرمایا: ”اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو، اور جب لوگوں کی گردنیں مختلف سمتوں میں ہو جائیں (یعنی فتنہ برپا ہو جائے) تو اسے پتھر پر مار کر توڑ دو، پھر اپنے گھر میں بیٹھ جاؤ اور ایک پڑے ہوئے کمبل کی طرح ہو جاؤ، یہاں تک کہ تمہیں کوئی خطاکار (گناہگار) ہاتھ قتل کر دے یا موت کا مقررہ وقت آ جائے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ،: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ خَرَجَ مُتَلَفِّعًا فِي أَخْلَاقِ ثِيَابٍ عَلَيْهِ، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَسَمِعَ النَّاسُ بِهِ، وَأَهْلُ السُّوقِ حَضَرُوا الْمَسْجِدَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ احْفَظُونِي فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِنَّهُمْ كِرْشِي الَّتِي آكُلُ فِيهَا وَعَيْبَتِي، اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کو اپنی وفات کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ پرانے کپڑوں میں لپٹے ہوئے باہر تشریف لائے، یہاں تک کہ منبر پر بیٹھ گئے۔ لوگوں کو خبر ہوئی تو بازار والے بھی مسجد میں آ گئے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”لوگو! انصار کے اس قبیلے کے بارے میں میرا خیال رکھو، کیونکہ وہ میرا وہ معدہ ہیں جس میں میں کھاتا ہوں، اور میری گٹھڑی (یعنی میرے رازدار) ہیں۔ ان کے نیکوکار سے نیکی قبول کرو اور ان کے بدکار سے درگزر کرو۔“