المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعد بن زيد الأشهلي بدري باب: سیدنا سعد بن زید اشہلی بدری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 5405
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مَحْمُودٍ، مِنْ وَلَدِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَشْهَلِيِّ، أَنَّهُ: أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفًا مِنْ نَجْرَانَ، أَوْ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفٌ مِنْ نَجْرَانَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَعْطَاهُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ: «جَاهِدْ بِهَذَا فِي سَبِيلِ اللهِ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ النَّاسِ، فَاضْرِبْ بِهِ الْحَجَرَ، ثُمَّ ادْخُلْ بَيْتَكَ، وَكُنْ حِلْسًا مُلْقًى، حَتَّى تَقْتُلَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ، أَوْ تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ»ترجمہ
سیدنا سعد بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نجران کی ایک تلوار نبی کریم ﷺ کو تحفے میں دی — یا نجران سے ایک تلوار آپ ﷺ کو ہدیہ کی گئی — جب وہ آپ ﷺ کے پاس پہنچی تو آپ ﷺ نے وہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرما دی اور فرمایا: ”اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو، اور جب لوگوں کی گردنیں مختلف سمتوں میں ہو جائیں (یعنی فتنہ برپا ہو جائے) تو اسے پتھر پر مار کر توڑ دو، پھر اپنے گھر میں بیٹھ جاؤ اور ایک پڑے ہوئے کمبل کی طرح ہو جاؤ، یہاں تک کہ تمہیں کوئی خطاکار (گناہگار) ہاتھ قتل کر دے یا موت کا مقررہ وقت آ جائے۔“