المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعد بن زيد الأشهلي بدري باب: سیدنا سعد بن زید اشہلی بدری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 5406
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ،: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ خَرَجَ مُتَلَفِّعًا فِي أَخْلَاقِ ثِيَابٍ عَلَيْهِ، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَسَمِعَ النَّاسُ بِهِ، وَأَهْلُ السُّوقِ حَضَرُوا الْمَسْجِدَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ احْفَظُونِي فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِنَّهُمْ كِرْشِي الَّتِي آكُلُ فِيهَا وَعَيْبَتِي، اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ»ترجمہ
سیدنا سعد بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کو اپنی وفات کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ پرانے کپڑوں میں لپٹے ہوئے باہر تشریف لائے، یہاں تک کہ منبر پر بیٹھ گئے۔ لوگوں کو خبر ہوئی تو بازار والے بھی مسجد میں آ گئے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”لوگو! انصار کے اس قبیلے کے بارے میں میرا خیال رکھو، کیونکہ وہ میرا وہ معدہ ہیں جس میں میں کھاتا ہوں، اور میری گٹھڑی (یعنی میرے رازدار) ہیں۔ ان کے نیکوکار سے نیکی قبول کرو اور ان کے بدکار سے درگزر کرو۔“