کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سیدنا زید بن خارجہ انصاری رضی اللہ عنہ (بنو حارثہ بن خزرج سے، بدری، مدینہ میں رہتے تھے، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وفات پائی)
❮
❯
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُعَاوِيَةَ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ خَارِجَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، ثنا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَاةُ النَّجَاشِيِّ، قَالَ: «إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ تُوُفِّيَ» فَخَرَجَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّيْنَا وَمَا نَرَى شَيْئًا
ترجمہ
ابن خارجہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ کو نجاشی کی وفات کی خبر پہنچی تو فرمایا: ”تمہارا بھائی وفات پا گیا ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صفیں بنائیں، اور ہم نے نماز پڑھی حالانکہ ہمیں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5123
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 218، حدیث 5142
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَارِجَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: «قُولُوا اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خارجہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں تو معلوم ہو گیا کہ آپ پر سلام کیسے بھیجیں، لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ فرمایا: ”کہو: اے اللہ! محمد ﷺ اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بیشک تو تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5124
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 218، حدیث 5143
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُجَاشِعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَيْمُونٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زَيْدٍ، أَوْ يَزِيدَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: " بَيْنَمَا زَيْدُ بْنُ خَارِجَةَ، يَمْشِي فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ إِذْ خَرَّ مَيِّتًا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَنُقِلَ إِلَى أَهْلِهِ وسُجِّيَ بَيْنَ بُرْدَتَيْنِ وَكِسَاءٍ، فَلَمَّا كَانَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، اجْتَمَعَ نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَصْرُخْنَ حَوْلَهُ، إِذْ سَمِعُوا صَوْتًا مِنْ تَحْتِ الْكِسَاءِ يَقُولُ: أَنْصِتُوا أَيُّهَا النَّاسُ مَرَّتَيْنَ، فَحَسَرُوا عَنْ وَجْهِهِ وَصَدْرِهِ، فَقَالَ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قِيلَ عَلَى لِسَانِهِ: صَدَقَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ خَلِيفَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ كَانَ ضَعِيفًا فِي بَدَنِهِ قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللهِ كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قِيلَ عَلَى لِسَانِهِ: صَدَقَ صَدَقَ ثَلَاثًا، وَالْأَوْسَطُ عَبْدُ اللهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِي كَانَ لَا يَخَافُ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَكَانَ يَمْنَعُ النَّاسَ أَنْ يَأْكُلَ قَوِيُّهُمْ ضَعِيفَهُمْ، كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قِيلَ عَلَى لِسَانِهِ: صَدَقَ صَدَقَ صَدَقَ، ثُمَّ قَالَ: عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ رَحِيمٌ بِالْمُؤْمِنِينَ، خَلَتِ اثْنَتَانِ وَبَقِيَ أَرْبَعُ، ثُمَّ اخْتَلَفَ النَّاسُ وَلَا نِظَامَ لَهُمْ وَأُبِيحَتِ الْأَحْمَاءُ - يَعْنِي تُنْتَهَكُ الْمَحَارِمُ - وَدَنَتِ السَّاعَةُ، وَأَكَلَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا "
ترجمہ
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک بار سیدنا زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ مدینہ کے کسی راستے پر چل رہے تھے کہ ظہر اور عصر کے درمیان اچانک مردہ ہو کر گر پڑے۔ انہیں گھر لے جایا گیا اور دو چادروں اور ایک کملی میں لپیٹ دیا گیا۔ جب مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت ہوا تو انصار کی کچھ عورتیں ان کے ارد گرد جمع ہو کر چیخنے چلانے لگیں، اچانک انہوں نے کملی کے نیچے سے ایک آواز سنی جو دو بار کہہ رہی تھی: خاموش ہو جاؤ، اے لوگو! تو انہوں نے ان کے چہرے اور سینے سے کملی ہٹائی، تو وہ کہنے لگے: محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، امی نبی ہیں، خاتم النبیین ہیں، یہ بات پہلی کتاب میں تھی۔ پھر ان کی زبان پر یہ کہلوایا گیا: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سچ کہا، رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ، طاقتور، امانت دار، جسمانی طور پر کمزور مگر اللہ کے معاملے میں مضبوط، یہ بھی پہلی کتاب میں تھا۔ پھر ان کی زبان پر کہلوایا گیا: سچ کہا، سچ کہا، سچ کہا - تین بار - اور درمیان والے اللہ کے بندے عمر امیر المومنین ہیں، جو اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتے تھے، اور لوگوں کو اس سے روکتے تھے کہ طاقتور کمزور کو کھا جائے، یہ بھی پہلی کتاب میں تھا۔ پھر ان کی زبان پر کہلوایا گیا: سچ کہا، سچ کہا، سچ کہا۔ پھر کہنے لگے: عثمان امیر المومنین مومنوں پر مہربان ہوں گے، دو گزر چکے اور چار باقی ہیں، پھر لوگوں میں اختلاف ہو جائے گا اور ان کا کوئی نظم و ضبط نہیں رہے گا، اور حرمتیں پامال کی جائیں گی - یعنی حرام کاموں کا ارتکاب کیا جائے گا - اور قیامت قریب آ جائے گی، اور لوگ ایک دوسرے کو کھا جائیں گے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5125
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 218، حدیث 5144
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ السِّمْسَارُ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ زَيْدُ بْنُ خَارِجَةَ، انْتُظِرَ بِهِ خُرُوجُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، قَالَ: وَأَهْلُ الْبَيْتِ يَتَكَلَّمُونَ، قَالَ: فَقُلْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ: سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ، فَقَالَ: أَنْصِتُوا أَنْصِتُوا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ، صَدَقَ صَدَقَ صَدَقَ، أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ضَعِيفٌ فِي جَسَدِهِ قَوِيٌّ فِي أَمْرِ اللهِ كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ، صَدَقَ صَدَقَ صَدَقَ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَوِيٌّ فِي جَسَدِهِ قَوِيٌّ فِي أَمْرِ اللهِ كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ، صَدَقَ صَدَقَ صَدَقَ، عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مَضَتِ اثْنَتَانِ وَبَقِيَ أَرْبَعُ وَأُبِيحَتِ الْأَحْمَاءُ، بِئْرُ أَرِيسٍ وَمَا بِئْرُ أَرِيسٍ، السَّلَامُ عَلَيْكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ هَلْ أَحْسَسْتَ بِي خَارِجَةَ وَسَعْدًا؟ " قَالَ شَرِيكٌ: «هُمَا أَبُوهُ وَأَخُوهُ»
ترجمہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو (نماز جنازہ کے لیے) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے باہر آنے کا انتظار کیا گیا، تو میں نے کہا: (اتنے میں) دو رکعتیں پڑھ لی جائیں، (میں نماز پڑھنے لگا) کہ انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: السلام علیکم، السلام علیکم۔ راوی کہتے ہیں: اور گھر والے باتیں کر رہے تھے، تو میں نے نماز کی حالت میں کہا: سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ تو انہوں نے کہا: خاموش ہو جاؤ، خاموش ہو جاؤ، محمد اللہ کے رسول ہیں، یہ بات پہلی کتاب میں تھی، سچ کہا، سچ کہا، سچ کہا۔ ابوبکر صدیق جسم میں کمزور، اللہ کے معاملے میں مضبوط، یہ بات پہلی کتاب میں تھی، سچ کہا، سچ کہا، سچ کہا۔ عمر بن خطاب جسم میں مضبوط، اللہ کے معاملے میں مضبوط، یہ بات پہلی کتاب میں تھی، سچ کہا، سچ کہا، سچ کہا۔ عثمان بن عفان، دو (سال) گزر چکے اور چار باقی ہیں، اور حرمتیں پامال کر دی گئیں۔ بئر اریس! اور کیا ہے بئر اریس! السلام علیک، اے عبداللہ بن رواحہ! کیا تم نے میرے لیے خارجہ اور سعد کو محسوس کیا؟ شریک کہتے ہیں: یہ خارجہ اور سعد ان کے والد اور بھائی تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5126
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 219، حدیث 5145