المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زيد بن خارجة الأنصاري " من بني حارثة بن الخزرج بدري، كان ينزل المدينة، توفي في خلافة عثمان بن عفان رضي الله عنه " باب: سیدنا زید بن خارجہ انصاری رضی اللہ عنہ (بنو حارثہ بن خزرج سے، بدری، مدینہ میں رہتے تھے، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وفات پائی)
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ السِّمْسَارُ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ زَيْدُ بْنُ خَارِجَةَ، انْتُظِرَ بِهِ خُرُوجُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، قَالَ: وَأَهْلُ الْبَيْتِ يَتَكَلَّمُونَ، قَالَ: فَقُلْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ: سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ، فَقَالَ: أَنْصِتُوا أَنْصِتُوا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ، صَدَقَ صَدَقَ صَدَقَ، أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ضَعِيفٌ فِي جَسَدِهِ قَوِيٌّ فِي أَمْرِ اللهِ كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ، صَدَقَ صَدَقَ صَدَقَ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَوِيٌّ فِي جَسَدِهِ قَوِيٌّ فِي أَمْرِ اللهِ كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ، صَدَقَ صَدَقَ صَدَقَ، عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مَضَتِ اثْنَتَانِ وَبَقِيَ أَرْبَعُ وَأُبِيحَتِ الْأَحْمَاءُ، بِئْرُ أَرِيسٍ وَمَا بِئْرُ أَرِيسٍ، السَّلَامُ عَلَيْكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ هَلْ أَحْسَسْتَ بِي خَارِجَةَ وَسَعْدًا؟ " قَالَ شَرِيكٌ: «هُمَا أَبُوهُ وَأَخُوهُ»سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو (نماز جنازہ کے لیے) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے باہر آنے کا انتظار کیا گیا، تو میں نے کہا: (اتنے میں) دو رکعتیں پڑھ لی جائیں، (میں نماز پڑھنے لگا) کہ انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: السلام علیکم، السلام علیکم۔ راوی کہتے ہیں: اور گھر والے باتیں کر رہے تھے، تو میں نے نماز کی حالت میں کہا: سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ تو انہوں نے کہا: خاموش ہو جاؤ، خاموش ہو جاؤ، محمد اللہ کے رسول ہیں، یہ بات پہلی کتاب میں تھی، سچ کہا، سچ کہا، سچ کہا۔ ابوبکر صدیق جسم میں کمزور، اللہ کے معاملے میں مضبوط، یہ بات پہلی کتاب میں تھی، سچ کہا، سچ کہا، سچ کہا۔ عمر بن خطاب جسم میں مضبوط، اللہ کے معاملے میں مضبوط، یہ بات پہلی کتاب میں تھی، سچ کہا، سچ کہا، سچ کہا۔ عثمان بن عفان، دو (سال) گزر چکے اور چار باقی ہیں، اور حرمتیں پامال کر دی گئیں۔ بئر اریس! اور کیا ہے بئر اریس! السلام علیک، اے عبداللہ بن رواحہ! کیا تم نے میرے لیے خارجہ اور سعد کو محسوس کیا؟ شریک کہتے ہیں: یہ خارجہ اور سعد ان کے والد اور بھائی تھے۔