کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: نفیع ابوداؤد کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمَّازٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الدَّارِمِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِخْلَاصُهُ أَنْ يَحْجِزَهُ عَمَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے خلوص دل سے 'لا إله إلا الله' کہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اس کے اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے ان چیزوں سے روک دے جو اللہ نے اس پر حرام کی ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ عَائِذِ اللهِ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: «سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ» قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا مِنَ الْأَجْرِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ» قَالُوا: فَالصُّوفُ، قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ فرمایا: ”تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔“ عرض کیا: اس میں ہمارے لیے کیا اجر ہے؟ فرمایا: ”ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔“ عرض کیا: اور اون کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى زُنْبُورٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ الصُّبْحِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْزِلُوا عِبَادِي الْعَارِفِينَ الْمُوَحِّدِينَ مِنَ الْمُذْنِبِينَ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أُنْزِلُهُمْ بِعِلْمِي فِيهِمْ وَلَا تَكَلَّفُوا مِنْ ذَلِكَ مَا لَمْ تَكَلَّفُوا وَلَا تُحَاسِبُوا الْعِبَادَ دُونَ رَبِّهِمْ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے گنہگار بندوں میں سے پہچاننے والے، موحد بندوں کو نہ جنت میں ٹھہراؤ اور نہ جہنم میں، یہاں تک کہ میں خود انہیں اپنے علم کے مطابق ٹھکانا دوں، اور اس معاملے میں اپنے آپ کو اس چیز کا مکلف نہ بناؤ جس کا تمہیں مکلف نہیں بنایا گیا، اور بندوں کا حساب ان کے رب سے پہلے مت لو۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نُفَيْعٍ أَوْ أَنْفَعَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا، يُسَدِّدُهُ لِلْخَيْرِ مَا لَمْ يُرِدْ غَيْرُهُ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ جان بوجھ کر ظلم نہ کرے، اللہ اسے خیر کی طرف رہنمائی دیتا رہتا ہے جب تک وہ اس کے سوا کچھ اور نہ چاہے۔“