المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نفيع أبو داود، عن زيد بن أرقم باب: نفیع ابوداؤد کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5056
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ عَائِذِ اللهِ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: «سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ» قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا مِنَ الْأَجْرِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ» قَالُوا: فَالصُّوفُ، قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ»ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ فرمایا: ”تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔“ عرض کیا: اس میں ہمارے لیے کیا اجر ہے؟ فرمایا: ”ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔“ عرض کیا: اور اون کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی۔“