کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابوعمرو شیبانی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاهُ فِي حَاجَتِهِ، حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ "
ترجمہ
ابوعمرو شیبانی، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، ہم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اپنی ضرورت کی بات کر لیتا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”نمازوں کی، بالخصوص درمیانی نماز کی حفاظت کرو، اور اللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہو“ [البقرہ: 238]، تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5043
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 193، حدیث 5062
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ فِي الْحَاجَةِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حَتَّى نَزَلَتْ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] فَأُمِرْنَا حِينَئِذٍ بِالسُّكُوتِ "
ترجمہ
ابوعمرو شیبانی، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، ہم میں سے کوئی اپنے ساتھی سے اپنی ضرورت کی بات آپس میں کر لیتا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”نمازوں کی، بالخصوص درمیانی نماز کی حفاظت کرو، اور اللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہو“ [البقرہ: 238]، تو ہمیں اسی وقت خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5044
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 193، حدیث 5063
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبِي، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " كُنَّا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كُنَّا فِي الصَّلَاةِ، فَأَرَادَ رَجُلٌ مِنَّا حَاجَةً كَلَّمَهُ وَسَارَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ "
ترجمہ
ابوعمرو شیبانی، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جب نماز میں ہوتے تو اگر ہم میں سے کسی کو کوئی ضرورت پیش آتی تو وہ اپنے ساتھی سے بات کرتا اور آہستہ سے سرگوشی کرتا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہو“ [البقرہ: 238]، تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5045
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 193، حدیث 5064