المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عمرو الشيباني، عن زيد بن أرقم باب: ابوعمرو شیبانی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5045
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبِي، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " كُنَّا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كُنَّا فِي الصَّلَاةِ، فَأَرَادَ رَجُلٌ مِنَّا حَاجَةً كَلَّمَهُ وَسَارَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ "ترجمہ
ابوعمرو شیبانی، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جب نماز میں ہوتے تو اگر ہم میں سے کسی کو کوئی ضرورت پیش آتی تو وہ اپنے ساتھی سے بات کرتا اور آہستہ سے سرگوشی کرتا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہو“ [البقرہ: 238]، تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔