المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الشعبي، عن زيد بن أرقم باب: شعبی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: أَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَى عُثْمَانَ فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ، فَأَخَذَ عُثْمَانُ بِيَدِي فَانْطَلَقَ أَوْ ذَهَبَ بِي حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذِهِ الْبَلْوَى الَّتِي تُصِيبُنِي؟ فَوَاللهِ مَا تَغَنَّيْتُ وَلَا تَمَنَّيْتُ وَلَا مَسَسْتُ فَرْجِي بِيَمِينِي مُنْذُ أَسْلَمْتُ أَوْ مُنْذُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، فَقَالَ لَهُ: «إِنَّ اللهَ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ»سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو میں نے انہیں ایک آزمائش کے ساتھ جو انہیں پہنچے گی، جنت کی بشارت دی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کون سی آزمائش ہے جو مجھے پہنچے گی؟ اللہ کی قسم! میں نے کبھی گانا نہیں گایا، نہ کوئی جھوٹی آرزو کی، اور جب سے میں اسلام لایا ہوں یا جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی ہے، میں نے کبھی اپنی شرمگاہ کو اپنے دائیں ہاتھ سے نہیں چھوا، اور نہ جاہلیت میں اور نہ اسلام میں کبھی زنا کیا۔ تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافق تمہیں اسے اتارنے پر مجبور کرنا چاہیں تو اسے مت اتارنا۔“