المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عمرو الشيباني، عن زيد بن أرقم باب: ابوعمرو شیبانی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5044
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ فِي الْحَاجَةِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حَتَّى نَزَلَتْ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] فَأُمِرْنَا حِينَئِذٍ بِالسُّكُوتِ "ترجمہ
ابوعمرو شیبانی، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، ہم میں سے کوئی اپنے ساتھی سے اپنی ضرورت کی بات آپس میں کر لیتا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”نمازوں کی، بالخصوص درمیانی نماز کی حفاظت کرو، اور اللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہو“ [البقرہ: 238]، تو ہمیں اسی وقت خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔